اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا
اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا یوں مرے پاس سے ہو کر کوئی گزرا ہوتا چاندنی سے بھی سلگ اٹھتا ہے ویرانۂ جاں یہ اگر جانتے سورج ہی کو چاہا ہوتا زندگی خواب پریشاں ہے بہار ایک خیال ان کو ملنے سے بہت پہلے یہ سوچا ہوتا دوپہر گزری مگر دھوپ کا عالم ہے وہی کوئی سایہ کسی دیوار سے اترا ...