شاعری

اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا

اپنے قدموں ہی کی آواز سے چونکا ہوتا یوں مرے پاس سے ہو کر کوئی گزرا ہوتا چاندنی سے بھی سلگ اٹھتا ہے ویرانۂ جاں یہ اگر جانتے سورج ہی کو چاہا ہوتا زندگی خواب پریشاں ہے بہار ایک خیال ان کو ملنے سے بہت پہلے یہ سوچا ہوتا دوپہر گزری مگر دھوپ کا عالم ہے وہی کوئی سایہ کسی دیوار سے اترا ...

مزید پڑھیے

وہ زندگی ہے اس کو خفا کیا کرے کوئی

وہ زندگی ہے اس کو خفا کیا کرے کوئی پانی کو ساحلوں سے جدا کیا کرے کوئی بارش کا پہلا قطرہ ہی بستی ڈبو گیا اب اپنی جاں کا قرض ادا کیا کرے کوئی جب گرد اڑ رہی ہو حریم خیال میں آئینہ دیکھنے کے سوا کیا گرے کوئی وہ کیا گئے کہ شہر ہی ویران ہو گیا اب جنگلوں میں رہ کے صدا کیا کرے کوئی اپنے ...

مزید پڑھیے

ایک ہم ہی تو نہیں آبلہ پا آوارہ

ایک ہم ہی تو نہیں آبلہ پا آوارہ نگہت گل بھی ہوئی باد صبا آوارہ یہ کہیں عمر گزشتہ تو نہیں تم تو نہیں کوئی پھرتا ہے سر شہر وفا آوارہ کون منزل کی خبر دے کسے منزل کی خبر راہرو آبلہ پا راہنما آوارہ دل دھڑکتا ہے سر شام کہ گزرے گا ابھی وادئ شب سے کوئی نغمہ سرا آوارہ اب کوئی کس سے کہے ...

مزید پڑھیے

شاخوں پہ زخم ہیں کہ شگوفے کھلے ہوئے

شاخوں پہ زخم ہیں کہ شگوفے کھلے ہوئے اب کے فروغ گل کے عجب سلسلے ہوئے خورشید کا جمال کسے ہو سکا نصیب تاروں کے ڈوبتے ہی رواں قافلے ہوئے اپنا ہی دھیان اور کہیں تھا نظر کہیں ورنہ تھے راہ میں گل‌ و غنچے کھلے ہوئے تم مطمئن رہو کہ نہ دیکھیں نہ کچھ کہیں آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہیں لب بھی ...

مزید پڑھیے

طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا

طلسم گنبد بے در کسی پہ وا نہ ہوا شرر تو لپکا مگر شعلۂ صدا نہ ہوا ہمیں زمانے نے کیا کیا نہ آئنے دکھلائے مگر وہ عکس جو آئینہ آشنا نہ ہوا بیاض جاں میں سبھی شعر خوبصورت تھے کسی بھی مصرع رنگیں کا حاشیا نہ ہوا نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ...

مزید پڑھیے

میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا

میں نے یوں دیکھا اسے جیسے کبھی دیکھا نہ تھا اور جب دیکھا تو آنکھوں پر یقیں آتا نہ تھا بام و در سے سخت بارش میں بھی اٹھے گا دھواں یوں بھی ہوتا ہے محبت میں کبھی سوچا نہ تھا آندھیوں کو روزن زنداں سے ہم دیکھا کئے دور تک پھیلا ہوا صحرا تھا نقش پا نہ تھا لوگ لائے ہیں کہاں سے شب کو مرمر ...

مزید پڑھیے

آگ چولھے کی بجھی جاتی ہے

آگ چولھے کی بجھی جاتی ہے چاندنی ہے کہ کھلی جاتی ہے جس قدر نیچے اترتا ہوں میں جھیل بھی گہری ہوئی جاتی ہے گرد اٹھی ہے جو مری ٹھوکر سے ایک دیوار بنی جاتی ہے پہرے ہونٹوں پہ بٹھانے والے بات آنکھوں سے بھی کی جاتی ہے لوگ ساحل پہ کھڑے دیکھتے ہیں ناؤ کاغذ کی بہی جاتی ہے

مزید پڑھیے

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا دیئے کی لو پہ ستاروں کا رقص جاری تھا میں اس کو دیکھتا تھا دم بخود تھا حیراں تھا کسے خبر وہ کڑا وقت کتنا بھاری تھا گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا دیار جاں میں بڑی دیر میں یہ بات کھلی مرا وجود ہی خود ننگ ...

مزید پڑھیے

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری ہوائے کوہ ندا اک ذرا ٹھہر کہ ابھی زمانہ غور سے سنتا ہے ان کہی ...

مزید پڑھیے

میرے لہو میں اس نے نیا رنگ بھر دیا

میرے لہو میں اس نے نیا رنگ بھر دیا سورج کی روشنی نے بڑا کام کر دیا ہاتھوں پہ میرے اپنے لہو کا نشان تھا لوگوں نے اس کے قتل کا الزام دھر دیا گندم کا بیج پانی کی چھاگل اور اک چراغ جب میں چلا تو اس نے یہ زاد سفر دیا جاگا تو ماہتاب کی کنجی سرہانے تھی میں خواب میں تھا جب مجھے روشن نگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4276 سے 4657