شاعری

راہگیروں سے ربط پیدا کر

راہگیروں سے ربط پیدا کر دور جانا ہے بات سمجھا کر رات پر دن کا کوئی قرض نہیں ذہن کو صاف رکھ کے سویا کر کیا مرا ہم خیال کوئی نہیں تو اگر ہے تو ہاتھ اونچا کر رات بھر جاگنے سے کیا حاصل خواب کا راستہ نہ روکا کر فاصلے سوچنے نہیں دیتے مجھ کو دیکھو مرے قریب آ کر عکس کب کون سا ابھر ...

مزید پڑھیے

مسلسل چلا رہ گزر میں رہا

مسلسل چلا رہ گزر میں رہا مرا آب و دانہ سفر میں رہا میں اپنی گھٹن اپنے دل میں لئے ہمیشہ ہوا دار گھر میں رہا نظر سے کئی لوگ گزرے مگر وہی ایک چہرہ نظر میں رہا مجھے بھی خوشی ڈھونڈنے آئی تھی مگر ان دنوں میں سفر میں رہا کسی پر توجہ کسی نے نہ دی مرا عیب سب کی نظر میں رہا مجھے خود بھی ...

مزید پڑھیے

سب یہ باتیں کہاں سمجھتے ہیں

سب یہ باتیں کہاں سمجھتے ہیں درد کی ہم زباں سمجھتے ہیں کاروباری نہیں ہیں سب لیکن اپنا سود و زیاں سمجھتے ہیں جانتے ہیں کہ کیوں اٹھا لنگر کیوں کھلا بادباں سمجھتے ہیں ان سے مل کر بھی وہ ملا ہی نہیں جو اسے بے زباں سمجھتے ہیں کون کیسا ہے کس کی نظروں میں لوگ یہ سب کہاں سمجھتے ہیں اب ...

مزید پڑھیے

الجھنیں اور بڑھاتے کیوں ہو

الجھنیں اور بڑھاتے کیوں ہو مجھ کو ہر بات بتاتے کیوں ہو میں غلط لوگوں میں گھر جاتا ہوں تم مجھے چھوڑ کے جاتے کیوں ہو دن مرا کاٹے نہیں کٹتا پھر تم ذرا دیر کو آتے کیوں ہو میں نہیں ہاتھ لگانے والا اس قدر خود کو بچاتے کیوں ہو یہ بھی تسکین کی صورت ہے کوئی اس کے خط سب کو دکھاتے کیوں ...

مزید پڑھیے

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں گیا موسم مری دیوانگی کا نہ رکھو خواہش چہرہ نمائی نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا میں زندہ ہوں وسیلے سے کسی کے وگرنہ مر گیا ہوتا کبھی کا

مزید پڑھیے

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے دنیا مرے خلاف نبرد آزما رہی لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے زخم نگاہ زخم ہنر زخم دل کے بعد اک اور زخم تجھ سے بچھڑ کر ملا مجھے نازک خیالیوں کی ...

مزید پڑھیے

مدتوں جو رہے بہاروں میں

مدتوں جو رہے بہاروں میں آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں عکس تیرا دکھائی دیتا ہے بہتے پانی کی نرم لہروں میں کھل گئے خواہشوں کے دروازے پھر بھی کوئی نہیں ہے بانہوں میں جو مہکتے ہیں خوشبوؤں کی طرح لمس تیرا ہے ان گلابوں میں کار ...

مزید پڑھیے

رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی

رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی تھے جس کی جستجو میں سب حریف کاروان شب وہ راہ ہم نے ڈھونڈ لی چراغ کے بغیر بھی محبتوں کے دیپ ہر قدم پہ میں جلاؤں گا ہے مجھ میں ذوق آگہی چراغ کے بغیر بھی وہ زندگی جو مشعل وفا کی ہم رکاب تھی گزر گئی ہنسی خوشی ...

مزید پڑھیے

اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں

اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں دیکھتا ہوں کچھ کمی سی حسن مہر و ماہ میں اس کے ہوتے بھی میں اک احساس تنہائی میں ہوں جلوہ گر ہے وہ جو مدت سے دل آگاہ میں دور ہو کر مجھ سے چلتی ہے ہوائے جاں فزا جی رہا ہوں پھر بھی ایسے موسم جاں کاہ میں ہر قدم پر کیوں ڈراتی ہے مجھے یہ زندگی یہ جو ...

مزید پڑھیے

اپنے پہلے مکان تک ہو آؤں

اپنے پہلے مکان تک ہو آؤں میں ذرا آسمان تک ہو آؤں کوئی پیکر پکارتا ہے مجھے سامنے کی چٹان تک ہو آؤں جھڑتا جاتا ہے جسم روز بہ روز کوزہ گر کی دکان تک ہو آؤں سحر تشکیک! اب رہائی دے میں کوئی دم گمان تک ہو آؤں وقت اب دسترس میں ہے اخترؔ اب تو میں جس جہان تک ہو آؤں

مزید پڑھیے
صفحہ 4270 سے 4657