نہ سمجھ سکی جو دنیا یہ زبان بے زبانی
نہ سمجھ سکی جو دنیا یہ زبان بے زبانی ترا چہرہ خود کہے گا مرے قتل کی کہانی یہ عذاب آسمانی یہ عتاب ناگہانی ہیں کہاں سمجھنے والے مرے آنسوؤں کو پانی کہیں لٹ رہا ہے خرمن کہیں جل رہا ہے گلشن اسے کس نے سونپ دی ہے یہ چمن کی پاسبانی مری تجھ سے کیا ہے نسبت مرا تجھ سے واسطہ کیا تو حریص ...