راہگیروں سے ربط پیدا کر
راہگیروں سے ربط پیدا کر
دور جانا ہے بات سمجھا کر
رات پر دن کا کوئی قرض نہیں
ذہن کو صاف رکھ کے سویا کر
کیا مرا ہم خیال کوئی نہیں
تو اگر ہے تو ہاتھ اونچا کر
رات بھر جاگنے سے کیا حاصل
خواب کا راستہ نہ روکا کر
فاصلے سوچنے نہیں دیتے
مجھ کو دیکھو مرے قریب آ کر
عکس کب کون سا ابھر آئے
دیر تک آئینہ نہ دیکھا کر
گھر میں نظمیؔ اگر سکوں ہوتا
بیٹھتے کیوں کسی کے گھر جا کر