مسلسل چلا رہ گزر میں رہا
مسلسل چلا رہ گزر میں رہا
مرا آب و دانہ سفر میں رہا
میں اپنی گھٹن اپنے دل میں لئے
ہمیشہ ہوا دار گھر میں رہا
نظر سے کئی لوگ گزرے مگر
وہی ایک چہرہ نظر میں رہا
مجھے بھی خوشی ڈھونڈنے آئی تھی
مگر ان دنوں میں سفر میں رہا
کسی پر توجہ کسی نے نہ دی
مرا عیب سب کی نظر میں رہا
مجھے خود بھی حیرت ہے اس بات پر
سکوں سے بہت شور و شر میں رہا
گزاری ہے نظمیؔ عجب زندگی
میں باہر رہا ہوں نہ گھر میں رہا