شاعری

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں ہم تو ذرا سی بات پہ پہروں اشک بہاتے رہتے ہیں وہ اپنے ماتھے پر جھوٹے روگ سجا کر پھرتے ہیں ہم اپنی آنکھوں کے جلتے زخم چھپاتے رہتے ہیں سوچ سے پیکر کیسے ترشے سوچ کا انت نرالا ہے خاک پہ بیٹھے آڑے ترچھے نقش بناتے رہتے ہیں ساحل ساحل دار سجے ...

مزید پڑھیے

جرم ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو

جرم ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو لوگ جینے کی دعا کیوں نہیں دیتے مجھ کو صرصر خوں کے تصور سے لرزتے کیوں ہو خاک صحرا ہوں اڑا کیوں نہیں دیتے مجھ کو کیوں تکلف ہے مرے نام پہ تعزیروں کا میں برا ہوں تو بھلا کیوں نہیں دیتے مجھ کو اب تمہارے لیے خود اپنا تماشائی ہوں دوستو داد وفا ...

مزید پڑھیے

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے یہ شہر تو اجڑے ہوئے مندر کی طرح ہے میں تشنۂ دیدار کہ جھونکا ہوں ہوا کا وہ جھیل میں اترے ہوئے منظر کی طرح ہے کم ظرف زمانے کی حقارت کا گلہ کیا میں خوش ہوں مرا پیار سمندر کی طرح ہے اس چرخ کی تقدیس کبھی رات کو دیکھو یہ قبر پہ پھیلی ہوئی چادر کی طرح ...

مزید پڑھیے

ترے ملنے سے ہی ٹھنڈا دل آتش فشاں ہوگا

ترے ملنے سے ہی ٹھنڈا دل آتش فشاں ہوگا ذرا سی آنچ ہوگی کم جو سینے میں دھواں ہوگا چہکتے ہیں خیالوں کے مرے بلبل اسیری میں کہ تیری یاد کے پنجرے میں ان کا گلستاں ہوگا اگر شوق بلندی ہے تو پیدا کر زمیں اپنی وگرنہ تو کہاں ہوگا ترا کیا آسماں ہوگا یہی تو زندگانی ہے یہ اس دل میں نہ جائے ...

مزید پڑھیے

جہان ریگ ترا آب دیکھنے کے لیے

جہان ریگ ترا آب دیکھنے کے لیے ملی ہے آنکھ مجھے خواب دیکھنے کے لیے گہن لگا دے اگر زلف سے تو چہرے پر میں آنکھ پھوڑ لوں مہتاب دیکھنے کے لیے یہ کیا ستم ہے کہ آتا ہوں ایک صحرا سے ذرا سی گھاس کو شاداب دیکھنے کے لیے اٹھے تھے شوق سے اپنا ہی چین کھو بیٹھے وہ میرے حال کو بیتاب دیکھنے کے ...

مزید پڑھیے

یہ وہ یقیں ہے جو الجھے یقیں سے نکلا ہے

یہ وہ یقیں ہے جو الجھے یقیں سے نکلا ہے ہماری ہاں کا یہ دھاگا نہیں سے نکلا ہے یہ دل ہے سب سے بڑا بھیک مانگنے والا پہ زندگی کا خزانہ یہیں سے نکلا ہے ترے لیے جو یقیں دل میں آ گیا تھا مرے وہ سانپ بن کے مری آستیں سے نکلا ہے فلک کی چاہ میں جھوٹا یقیں ضروری ہے یہ مان لو کہ ستارا زمیں سے ...

مزید پڑھیے

میں تیری یاد میں گم ہوں سو میں ہوں تو ہو کر

میں تیری یاد میں گم ہوں سو میں ہوں تو ہو کر کہ جیسے پھول میں رہتا ہوں اس کی بو ہو کر پھر آ جا اور یہ تصویر لے کے جا اپنی تو خود کو چھوڑ گیا میرے رو بہ رو ہو کر یہ دل تو روز نشیمن سجا کے رکھتا ہے مری طرف سے گزر تو بھی تو کبھو ہو کر گلاب سن تو گل اندام آ رہا ہوگا دکھا دے سامنے اس کے بھی ...

مزید پڑھیے

پھینک کر سارے خواب پانی میں

پھینک کر سارے خواب پانی میں دیکھتا ہوں سراب پانی میں وصل کے بعد یوں لگا جیسے ہو مرا اضطراب پانی میں اس نے پھر پھینک دی بغیر پڑھے میرے دل کی کتاب پانی میں کوئی اس میں ملا گیا پانی پھینک دو یہ شراب پانی میں شام کو لے کے تیرے لب کی شفق آ گیا آفتاب پانی میں بے قراری سے بحر کی ...

مزید پڑھیے

ہشیار کر رہا ہے گجر جاگتے رہو

ہشیار کر رہا ہے گجر جاگتے رہو اے صاحبان فکر و نظر جاگتے رہو دشت شب سیاہ میں سنتے ہیں شب پرست روکیں گے کاروان سحر جاگتے رہو ظلمت کہیں نہ کر دے اجالے کو داغدار لے کر چراغ دیدۂ تر جاگتے رہو سوئے نہیں کہ ڈوب گئی نبض کائنات بوجھل ہو لاکھ آنکھ مگر جاگتے رہو خوابیدہ اپنے چاہنے والوں ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے ان کی آمد کا ہر انداز نیا ہے اب کے قافلہ قافلہ مقتل کی طرف جائیں گے لوگ شوخ پہلے سے بہت رنگ حنا ہے اب کے یہ تو سچ ہے وہ اسی راہ سے گزریں گے مگر کوئی دیکھے نہ انہیں حکم ہوا ہے اب کے آؤ جی بھر کے گلے مل لیں رفیقو ہم آج قتل کی شکل میں انعام وفا ہے اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4267 سے 4657