شاعری

رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں

رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں لیکن ہمیں دنیا کی خاطر پہ گراں بھی ہیں اک تیرے ہی کوچے پر موقوف نہیں ہے کچھ ہر گام ہیں تعزیریں ہم لوگ جہاں بھی ہیں گلچیں کو نہیں شاید اس راز سے آگاہی شبنم میں نہائے گل شعلوں کی زباں بھی ہیں کھاتے تھے قسم جن کے کردار و عمل کی ہم شامل صف ...

مزید پڑھیے

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا چشم بے خواب کو خوں ناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سر قرطاس لگا حرف برہنہ اچھا پار اترنے میں بھی اک صورت غرقابی ہے کشتئ خواب رہ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی ...

مزید پڑھیے

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا ہوا کاغذ مصور ایک پیغام زبانی سے سخن تصویر تک پہنچا ہنر پرکار تک آیا عبث تاریک رستے کو تہ خورشید جاں رکھا یہی تار نفس آزار سے پیکار تک آیا محبت کا بھنور اپنا شکایت کی جہت اپنی وہ محور دوسرا تھا جو مرے ...

مزید پڑھیے

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی چاند چلتا ہوا مہر سے جا ملا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی دل سے نکلا لبوں تک سوال آ گیا اپنے رہنے سے چل کر غزال آ گیا بند رخت صبا باب نافہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی اپنے اپنے سفر پر پھریرے چلے رات کے لشکری منہ اندھیرے ...

مزید پڑھیے

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ سر کشیدہ اس کی خاطر پائمال اس کے لیے کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ ہائے شہر ...

مزید پڑھیے

چڑھے ہوئے ہیں جو دریا اتر بھی جائیں گے

چڑھے ہوئے ہیں جو دریا اتر بھی جائیں گے مرے بغیر ترے دن گزر بھی جائیں گے اڑا رہی ہیں ہوائیں پرائے صحنوں میں ڈھلے گی رات تو ہم اپنے گھر بھی جائیں گے جو رو رہی ہے یہی آنکھ ہنس رہی ہوگی ترے دیار میں بار دگر بھی جائیں گے تلاش خود کو کہیں خاک و آب میں کر لیں تمہارے کھوج میں پھر در بدر ...

مزید پڑھیے

منزل‌ خواب ہے اور محو سفر پانی ہے

منزل‌ خواب ہے اور محو سفر پانی ہے آنکھ کیا کھولیں کہ تا حد نظر پانی ہے آئنہ ہے تو کوئی عکس کہاں ہے اس میں کیوں بہا کر نہیں لے جاتا اگر پانی ہے ایک خواہش کہ جو صحرائے بدن سے نکلی کھینچتی ہے اسی جانب کو جدھر پانی ہے پاؤں اٹھتے ہیں کسی موج کی جانب لیکن روک لیتا ہے کنارہ کہ ٹھہر ...

مزید پڑھیے

نکل رہا ہوں یقیں کی حد سے گماں کی جانب

نکل رہا ہوں یقیں کی حد سے گماں کی جانب سفر ہے میرا زمین سے آسماں کی جانب منڈیر پر کوئی چشم تر تھی کہ آئنہ تھا ستارۂ شام دیکھتا تھا مکاں کی جانب یہ خواب ہے یا طلسم کوئی کہ خشک پتے کھنچے چلے جا رہے ہیں آب رواں کی جانب کوئی تو اوپر سے بوجھ ڈالا گیا ہے ورنہ جھکا ہوا آسماں ہے کیوں ...

مزید پڑھیے

زخم دیکھے نہ مرے زخم کی شدت دیکھے

زخم دیکھے نہ مرے زخم کی شدت دیکھے دیکھنے والا مری آنکھوں کی حیرت دیکھے مجھ پہ آساں ہے کہے لفظ کا ایفا کرنا اس کو مشکل ہے تو وہ اپنی سہولت دیکھے دل لئے جاتا ہے پھر کوئے ملامت کی طرف آنکھ کو چاہئے پھر خواب ہزیمت دیکھے کوئی صورت ہو کہ انکار سے پہلے آ کر کس قدر اس کی یہاں پر ہے ...

مزید پڑھیے

کس کو کہتے ہیں جفا کیا ہے وفا یاد نہیں

کس کو کہتے ہیں جفا کیا ہے وفا یاد نہیں اے محبت مجھے کچھ تیرے سوا یاد نہیں دیکھیے ہوتی ہے کس طرح شب غم کی سحر اب تو اے درد جگر کوئی دعا یاد نہیں ہو گئی ختم رہ و رسم محبت شاید میں وفا بھول گیا ان کو جفا یاد نہیں یوں بھی کر سکتے ہو برباد محبت پہ کرم ہم نے مانا کہ تمہیں عہد وفا یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4268 سے 4657