شاعری

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں

کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں مے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں دل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمال ہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں بھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہ ساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں پاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسن ہم چرا کر تری دزدیدہ ...

مزید پڑھیے

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر ...

مزید پڑھیے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن آنکھ اس پھول کی ...

مزید پڑھیے

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا وہ اپنے روگ مری روح میں اتار گیا سمندروں کی یہ شورش اسی کا ماتم ہے جو خود تو ڈوب گیا موج کو ابھار گیا ہوا کے زخم کھلے تھے اداس چہرے پر خزاں کے شہر سے کوٹی تو پر بہار گیا اندھیری رات کی پرچھائیوں میں ڈوب گیا سحر کی کھوج میں جو بھی افق کے پار ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں میرے قابیل کی روایت ہیں پرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں صبح دم پھر سے بانٹ دی کس نے تیرگی شہر کے مکینوں میں بھوک بوئی گئی ہے اب کے برس دانت اگ آئے ہیں زمینوں میں زندگی گاؤں کی حسیں لڑکی گھر گئی ہے تماش بینوں میں کس مسافر کی ...

مزید پڑھیے

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح پگھل رہا ہے مرے دل میں چاندنی کی طرح مجھے پکارو تو دیوار ہوں سنو تو صدا میں گونجتا ہوں فضاؤں میں خامشی کی طرح میں اس کو نور کا پیکر کہوں کہ جان خیال جو میرے دل پہ اترتا ہے شاعری کی طرح کسی کی یاد نے مہکا دیا ہے زخم طلب صبا کے ہاتھ سے مسلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے اپنے دکھ میں پاگل ہو کر اب کس کو سمجھاؤ گے درد کے صحرا میں لاکھوں امید کے لاشے گلتے ہیں ایک ذرا سے دامن میں تم کس کس کو کفناؤ گے توڑ بھی دو احساس کے رشتے چھوڑ بھی دو دکھ اپنانے رو رو کے جیون کاٹو گے رو رو کے مر جاؤ گے راز کی بات کو ...

مزید پڑھیے

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو چاندنی میں گھل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر میں نے خود کفنا دیا سایوں میں کومل رات کو کرب کے لاوے ابلتے تھے سکوں کے آس ...

مزید پڑھیے

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا ایک کانٹا سا جگر سے نکلا پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا ایک میت کی طرح لگتا تھا چاند جب قید سحر سے نکلا مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی میں کہ جب گرد سفر سے نکلا ہائے دنیا نے اسے اشک کہا خون جو زخم نظر سے نکلا اک اماوس کا نصیبہ ہوں میں آج ...

مزید پڑھیے

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ اک مشت خاک آگ کا دریا لہو کی لہر کیا کیا روایتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب روتے رہے لپٹ کے ہر اک اجنبی کے ساتھ جنگل کی دھوپ چھاؤں ہی جنگل کا حسن ہے سایوں کو بھی قبول کرو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4266 سے 4657