کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں
کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں مے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیں دل میں ارمان وصال آنکھ میں طوفان جمال ہوش باقی نہیں جانے کا مگر جاتے ہیں بھولتی ہی نہیں دل کو تری مستانہ نگاہ ساتھ جاتا ہے یہ مے خانہ جدھر جاتے ہیں پاسبانان حیا کیا ہوئے اے دولت حسن ہم چرا کر تری دزدیدہ ...