شاعری

ترے خیال کا نشہ اترتا جاتا ہے

ترے خیال کا نشہ اترتا جاتا ہے ٹھہر ٹھہر کے کوئی پل گزرتا جاتا ہے بکھرتی ہے مرے چہرے پہ جتنی پیلاہٹ اے زندگی ترا چہرہ نکھرتا جاتا ہے زمیں کو بھوک لگی پھر کسی تمدن کی یہ کون زینۂ عبرت اترتا جاتا ہے بتا رہی ہے تھکن تیرے زرد لہجے کی ترے لہو میں کوئی خواب مرتا جاتا ہے جسے سجانا ...

مزید پڑھیے

دشت روز و شب میں دل بیتاب کو تازہ رکھنا

دشت روز و شب میں دل بیتاب کو تازہ رکھنا آنکھیں بے شک جھڑ جائیں اک خواب کو تازہ رکھنا میں بھی اپنی پیاس نہیں بجھنے دوں گا اور تم بھی اپنے صحرا کے ہر ایک سراب کو تازہ رکھنا جذبوں کی اس جھیل میں سوچ کی کائی نہ جمنے پائے اپنی تمنا کے عکس مہتاب کو تازہ رکھنا شاخ ہنر سے توڑ کے شعر کا ...

مزید پڑھیے

رات کے جنگل میں کوئی راستہ ملتا نہیں

رات کے جنگل میں کوئی راستہ ملتا نہیں ایسا الجھا ہوں کہ اب اپنا سرا ملتا نہیں چپ ہیں اب سارے دریچے بند ہیں سارے کواڑ اور کسی دیوار پر کوئی دیا ملتا نہیں اضطراب آرزو کا ساتھ دیں تو کس طرح دل پرانا ہو چکا ہے اور نیا ملتا نہیں جانے کس دریا سے خوشبو باندھ کر لاتی ہے یہ دیکھیے تو ...

مزید پڑھیے

دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں

دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں بارش سنگ میں لوگوں کو کھلے سر دیکھوں پھر وہ موسی کا عصا نیل کا شق ہو جانا فوج فرعون کا میں ڈوبتا منظر دیکھوں آئنے توڑ کے دوڑوں میں کسی جنگل کو اپنی صورت کو کسی جھیل کے اندر دیکھوں میرا سب لے لو مجھے ایک محبت دے دو شہر میں ایسی بھی آواز لگا کر ...

مزید پڑھیے

ورق انتخاب دل میں ہے

ورق انتخاب دل میں ہے ایک تازہ کتاب دل میں ہے کس کو دکھلاؤں اپنے جی کا حال روشن اک آفتاب دل میں ہے روشنی ہے اسی کے چہرے کی وہ جو اک ماہتاب دل میں ہے بند آنکھوں میں ایک عالم ہے کسی منظر کا خواب دل میں ہے سب ہی سینے میں ہو رہا ہے ظہیرؔ درد کی کائنات دل میں ہے

مزید پڑھیے

نہ آسماں کی کہانی نہ واں کا قصہ لکھ

نہ آسماں کی کہانی نہ واں کا قصہ لکھ اٹھا دوات و قلم آدمی کا چہرہ لکھ ہزار شور سمیٹے ہوئے ہے میرا وجود مرے وجود کے صحرا کو چشم دریا لکھ بنائے موسم غم ہائے ذات ہے دنیا اسے تو رشک ارم لکھ کہ شاخ طوبیٰ لکھ وہ نور پھیلا وہ پھوٹی کوئی کرن تازہ تمام عمر اندھیرا ہی تھا نہ ایسا لکھ جو ...

مزید پڑھیے

راہ الفت میں ملے ایسے بھی دیوانے مجھے

راہ الفت میں ملے ایسے بھی دیوانے مجھے جو مآل دوستی آئے تھے سمجھانے مجھے عشق کی ہلکی سی پہلی آنچ ہی میں جل بجھے کیا بھلا درس وفا دیں گے یہ پروانے مجھے یہ تو کہئے بے خودی سے مل گئی کچھ آگہی ورنہ دھوکا دے دیا تھا چشم بینا نے مجھے نامرادی لوٹ ہی لیتی متاع آرزو اک سہارا دے دیا احساس ...

مزید پڑھیے

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ دو گھڑی کھیل لیے گردش ایام کے ساتھ تشنہ لب رہنے پہ بھی ساکھ تو تھی شان تو تھی وضع رندانہ گئی اک طلب جام کے ساتھ جب سے ہنگام سفر اشکوں کے تارے چمکے تلخیاں ہو گئیں وابستہ ہر اک شام کے ساتھ اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں ہم کہاں پھنس گئے ...

مزید پڑھیے

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیں

کم ظرف احتیاط کی منزل سے آئے ہیں ہم زندگی کے جادۂ مشکل سے آئے ہیں گرداب محو رقص ہے طوفان محو جوش کچھ لوگ شوق موج میں ساحل سے آئے ہیں یہ وضع ضبط شوق کہ دل جل بجھا مگر شکوے زباں پہ آج بھی مشکل سے آئے ہیں آنکھوں کا سوز دل کی کسک تو نئیں ملی مانا کہ آپ بھی اسی محفل سے آئے ہیں یہ قشقۂ ...

مزید پڑھیے

غیر پوچھیں بھی تو ہم کیا اپنا افسانہ کہیں

غیر پوچھیں بھی تو ہم کیا اپنا افسانہ کہیں اب تو ہم وہ ہیں جسے اپنے بھی بیگانہ کہیں وہ بھی وقت آیا کہ دل میں یہ خیال آنے لگا آج ان سے ہم غم دوراں کا افسانہ کہیں کیا پکارے جائیں گے ہم ایسے دیوانے وہاں ہوش مندوں کو بھی جس محفل میں دیوانہ کہیں شب کے آخر ہوتے ہوتے دونوں ہی جب جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4231 سے 4657