شاعری

دین و دل پہلی ہی منزل میں یہاں کام آئے

دین و دل پہلی ہی منزل میں یہاں کام آئے اور ہم راہ وفا میں کوئی دو گام آئے تم کہو اہل خرد عشق میں کیا کیا بیتی ہم تو اس راہ میں ناواقف انجام آئے لذت درد ملی عشرت احساس ملی کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے وہ بھی کیا دن تھے کہ اک قطرۂ مے بھی نہ ملا آج آئے تو کئی بار کئی جام آئے اک ...

مزید پڑھیے

اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا

اف وہ اک حرف تمنا جو ہمارے دل میں تھا ایک طوفاں تھا کہ برسوں حسرت ساحل میں تھا رفتہ رفتہ ہر تماشا آنسوؤں میں ڈھل گیا جانے کیا آنکھوں نے دیکھا اور کیا منزل میں تھا داستان غم سے لاکھوں داستانیں بن گئی پھر بھی وہ اک راز سر بستہ رہا جو دل میں تھا چشم ساقی کے علاوہ جام خالی کے ...

مزید پڑھیے

جوانی حریف ستم ہے تو کیا غم

جوانی حریف ستم ہے تو کیا غم تغیر ہی اگلا قدم ہے تو کیا غم ہر اک شے ہے فانی تو یہ غم بھی فانی مری آنکھ گر آج نم ہے تو کیا غم مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم خوشی کچھ ترے ہی لیے تو نہیں ہے اگر حق مرا آج کم ہے تو کیا غم مرے خوں پسینے سے گلشن بنیں ...

مزید پڑھیے

اہل ظاہر کو فن جلوہ گری نے مارا

اہل ظاہر کو فن جلوہ گری نے مارا اہل باطن کو توانا نظری نے مارا تلخ تھی موت مگر زیست سے شیریں تر تھی اس سے پوچھو جسے بے بال و پری نے مارا مندمل ہوتے ہوئے زخم ہرے ہونے لگے سائے سائے میں تری ہم سفری نے مارا دشت غربت کے شب و روز کی لذت نہ ملی سر وطن میں بھی بہت در بہ دری نے مارا عشق ...

مزید پڑھیے

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملا

خلائے فکر کا احساس ارض فن سے ملا برہنگی میں نیا لطف پیرہن سے ملا قدم قدم پہ اگے زخم آرزو بھی ہزار ہزار رنگ تماشا بھی اس چمن سے ملا بڑھا کے ہاتھ کہیں الجھنیں ہی چھین نہ لیں وہ جام بھی جو مجھے شام انجمن سے ملا سحر کو بے کھلی کلیوں میں ڈھونڈھتی ہے کرن جو لطف جلوہ لجائی ہوئی دلہن سے ...

مزید پڑھیے

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے زندگی اک حسین سنگم ہے جام میں ہے جو مشعل گل رنگ تیری آنکھوں کا عکس مبہم ہے اے غم دہر کے گرفتارو عیش بھی سرنوشت آدم ہے نوک مژگاں پہ یاد کا آنسو موسم گل کی سرد شبنم ہے درد دل میں کمی ہوئی ہے کہیں تم نے پوچھا تو کہہ دیا کم ہے مٹتی جاتی ہے بنتی جاتی ...

مزید پڑھیے

ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا

ذرۂ ناتپیدہ کی خواہش آفتاب کیا نغمۂ ناشنیدہ کا حوصلۂ رباب کیا عمر کا دل ہے مضمحل زیست ہے درد مستقل ایسے نظام دہر میں وسوسۂ عذاب کیا نغمہ بہ لب ہیں کیاریاں رقص میں ذرہ تپاں سن لیا کشت خشک نے زمزمۂ سحاب کیا چہرۂ شب دمک اٹھا سرخ شفق جھلک اٹھی وقت طلوع کہہ گیا جانے آفتاب ...

مزید پڑھیے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے ہر وعدہ جیسے حرف غلط تھا سراب تھا ہم تو نثار جرأت انکار ہو گئے سرسبز پتیوں کا ...

مزید پڑھیے

ہم سفر گم راستے ناپید گھبراتا ہوں میں

ہم سفر گم راستے ناپید گھبراتا ہوں میں اک بیاباں در بیاباں ہے جدھر جاتا ہوں میں بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاط ہر جگہ سے چند نشتر چند غم لاتا ہوں میں آ گئی اے نامرادی وہ بھی منزل آ گئی مجھ کو کیا سمجھائیں گے وہ ان کو سمجھاتا ہوں میں ان کے لب پر ہے جو ہلکے سے تبسم کی جھلک اس ...

مزید پڑھیے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے ساقی کے اک اشارے نے کیا سحر کر دیا ہم بھی شکار اندک و بسیار ہو گئے اب ان لبوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4232 سے 4657