شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں
شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں ہاں مگر اشک جب امڈے تھے چھپائے تو نہیں تیری محفل کے بھی آداب کہ دل ڈرتا ہے میری آنکھوں نے در اشک لٹائے تو نہیں چھان لی خاک بیابانوں کی ویرانوں کی پھر بھی انداز جنوں عقل نے پائے تو نہیں لاکھ پر وحشت و پر ہول سہی شام فراق ہم نے گھبرا کے دیے ...