شاعری

میں بام و در پہ جو اب سائیں سائیں لکھتا ہوں

میں بام و در پہ جو اب سائیں سائیں لکھتا ہوں تمام شہر کی سڑکوں کی رائیں لکھتا ہوں طویل گلیوں میں خاموشیاں اگی ہیں مگر ہر اک دریچے پہ جا کر صدائیں لکھتا ہوں سفید دھوپ کے تودے ہی جن پہ گرتے ہیں انہی اداس گھروں کی کتھائیں میں لکھتا ہوں ہوا کے دوش پہ رقصاں نحیف پتوں پر بدلتے موسموں ...

مزید پڑھیے

وہ کہہ تو گئے ہیں کہ ہم آویں گے سحر تک

وہ کہہ تو گئے ہیں کہ ہم آویں گے سحر تک امید ہے جینے کی کسے چار پہر تک ظلمات و عدم میں نہ رہا فرق سر مو وہ زلف دوتا چھٹتے ہی پہونچے ہے کمر تک ہے روزن در دیدۂ خورشید قیامت وہ جھانکنے آئے تھے کہن روزن در تک کچھ کہہ دیں اشاروں ہی سے وہ منہ سے نہ بولیں وہ مانگیں تو ہم جان تلک دیں ...

مزید پڑھیے

دل کو کیا یار کے پیکان لئے بیٹھے ہیں

دل کو کیا یار کے پیکان لئے بیٹھے ہیں صاحب خانہ کو مہمان لئے بیٹھے ہیں شور کیونکر نہ لب زخم جگر سے اٹھے سنتے ہیں پھر وہ نمک دان لئے بیٹھے ہیں دم لبوں پر ہے یہاں شوق شہادت میرا گھر میں وہ خنجر بران لئے بیٹھے ہیں سوگ نے ان کے ہزاروں کو کیا سودائی وہ ابھی زلف پریشاں لئے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

سر کاکل کو نہ او شوخ طرحدار تراش

سر کاکل کو نہ او شوخ طرحدار تراش کاٹ کھائے گا یہ اڑ کر نہ سر مار تراش اب تو سر ہوتے ہیں دس بیس کے ہر روز قلم خوب یہ تو نے نکالی ہے جفا کار تراش خط تو یہ میں نے ہی لکھا تھا خطا‌ وار ہوں میں ہاتھ قاصد کے لئے تو نے ستم گار تراش ماہ نو چوم ہی لے اس کو فلک سے گر کر پھینک دیوے جو وہ ناخن ...

مزید پڑھیے

عید ہو جائے ابھی طالب دیداروں کو

عید ہو جائے ابھی طالب دیداروں کو کھول دو زلف سے گر چاند سے رخساروں کو لے کے دل چین سے جا بیٹھے وہ گھر میں چھپ کے اب تو آنکھیں بھی ترسنے لگیں نظاروں کو پھل یہ قاتل کو دیا میری گراں جانی نے توڑ کر ڈھیر کیا سیکڑوں تلواروں کو عین الطاف ہے مذہب میں حسینوں کے ستم بدشگونی ہے انہیں ...

مزید پڑھیے

دل پریشاں ہی رہا دیر تلک گو بیٹھے

دل پریشاں ہی رہا دیر تلک گو بیٹھے اپنی زلفوں کو بنایا ہی کئے وہ بیٹھے اپنی صورت پہ کہیں آپ نہ عاشق ہونا بے طرح دیکھتے ہو آئنہ تم تو بیٹھے زلف الجھی ہے تو شانے سے اسے سلجھا لو شام کا وقت ہے ہو کوستے کس کو بیٹھے جاؤں کیا ایک تو دربان ہے اور ایک رقیب جان لینے کو فرشتے ہیں وہاں دو ...

مزید پڑھیے

توڑنے گل کو جو وہ شوخ طرحدار جھکا

توڑنے گل کو جو وہ شوخ طرحدار جھکا ان کے قدموں پہ سر بلبل گلزار جھکا دیکھ لی تیرے نشے میں جو گلابی آنکھیں آنکھ کو شرم سے لے نرگس بیمار جھکا اس کی پاپوش کی چمکی جو دم صبح کرن چومنے اس کے قدم مطلع انوار جھکا دور ساقی میں مرے جھکنے لگا ایک پہ ایک جام ساغر پہ ہے ساغر پہ ہے وہ یار ...

مزید پڑھیے

انہیں باتوں سے اس کی خو بگڑی

انہیں باتوں سے اس کی خو بگڑی کبھو ہم سے بنی کبھو بگڑی کیوں گلا غیر کا کیا جائے مفت اس سے پئے عدو بگڑی ہجر میں ہار کر جو صبر کیا وصل کی ہم سے آرزو بگڑی چین سے دل تو اس کے ساتھ گیا جان آفت رسیدہ تو بگڑی قدر گوہر ہے آب سے تنویرؔ پھر رہا کیا جب آبرو بگڑی

مزید پڑھیے

دوست سے خواہ وہ عدو سے ملے

دوست سے خواہ وہ عدو سے ملے نہ ہوئے ہم تو پھر کسو سے ملے ساتھ اس کے پلے ہیں لاکھوں دل کیوں نہ رنگ حنا لہو سے ملے واہ یہ شکل یہ دغا بازی دل کسو کا لیا کسو سے ملے ویسے ہی حسرتوں کے خون ہوئے ان سے تھے جیسے آرزو سے ملے لو گئے تھے نماز کو تنویرؔ مے کدہ کے ہیں روبرو سے ملے

مزید پڑھیے

شوخیٔ گرمئی رفتار دکھاتے نہ چلو

شوخیٔ گرمئی رفتار دکھاتے نہ چلو فتنۂ حشر کو سیماب بتاتے نہ چلو غیر بھی کرنے لگے نقش قدم پر سجدے نقش حب دل پہ رقیبوں کے بٹھاتے نہ چلو چلتے چلتے تو نہ غیروں سے ہنسو بہر خدا خاک میں اشک نمط مجھ کو ملاتے نہ چلو نگہ گرم سے گلشن میں نہ دیکھو گل کو آتش رشک سے بلبل کو جلاتے نہ چلو اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 420 سے 4657