شاعری

جینا اب دشوار ہے بابا

جینا اب دشوار ہے بابا فکروں کی بھر مار ہے بابا کھوٹے سکے خوب چلیں گے اب اپنی سرکار ہے بابا دین کو بیچو دنیا بیچو اب یہ کاروبار ہے بابا آج کی یہ تہذیب تو جیسے گرتی ہوئی دیوار ہے بابا مفلس کی آواز دبی ہے پیسوں کی جھنکار ہے بابا کس کو سلیقہ ہے پینے کا کون یہاں مے خوار ہے ...

مزید پڑھیے

میرا غم ساری کائنات کا غم

میرا غم ساری کائنات کا غم میں نہیں جانتا نجات کا غم جن کی خاطر یہ عمر گزری ہے ان کو ہوتا ہے بات بات کا غم میں تو ہارا ہوں جیت کر تم کو کیا مٹے گا کبھی یہ مات کا غم اب تو ہوں میں مشین کا پرزہ ہے کہاں مجھ کو اپنی ذات کا غم خواہشوں کے غلام ہیں ہم سب پھر بھی ہم کو ہے خواہشات کا غم

مزید پڑھیے

سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا

سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا کیسے عجب مزاج کا مالک وہ شخص تھا پھر دوسرے ہی دن تھا عجب اس شجر کا حال سبزے کی ان منڈیروں پہ پت جھڑ کا رقص تھا تجزیہ کرتا ہوں تو ندامت ہی ہوتی ہے در اصل میرے اپنے روئیے میں نقص تھا گو وہ رہا سدا سے مرا منحرف مگر اس کی ہر ایک طرز پہ میرا ہی عکس ...

مزید پڑھیے

ڈوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اترا

ڈوبا ہوں تو کس شخص کا چہرہ نہیں اترا میں درد کے قلزم میں بھی تنہا نہیں اترا زنجیر نفس لکھتی رہی درد کی آیات اک پل کو مگر سکھ کا صحیفہ نہیں اترا انسان معلق ہیں خلاؤں کے بھنور میں اشجار سے لگتا ہے کہ دریا نہیں اترا سنتے ہیں کہ اس پیڑ سے ٹھنڈک ہی ملے گی شاخوں کے دریچوں سے تو جھونکا ...

مزید پڑھیے

تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں

تیز لہجے کی انی پر نہ اٹھا لیں یہ کہیں بچے نادان ہیں پتھر نہ اٹھا لیں یہ کہیں جن جزیروں کو یہ جاتے ہیں قناعت کر لو! سوچتے رہنے میں لنگر نہ اٹھا لیں یہ کہیں اعتماد ان پہ کرو خدشہ ہے یہ بھی ورنہ دست ساحل سے سمندر نہ اٹھا لیں یہ کہیں ان کے ہاتھوں کی طنابیں ہیں زمیں پر لپٹی شہر کی ...

مزید پڑھیے

اس کے بدن کا لمس ابھی انگلیوں میں ہے

اس کے بدن کا لمس ابھی انگلیوں میں ہے خوشبو وہ چاندنی کی مرے ذائقوں میں ہے میں سوچ کے بھنور میں تھا جس شخص کے لیے وہ خود بھی کچھ دنوں سے بڑی الجھنوں میں ہے اس کا وجود خامشی کا اشتہار ہے لگتا ہے ایک عمر سے وہ مقبروں میں ہے میں آسماں پہ نقش نہیں ہوں مگر سنو اب بھی مری شبیہ کئی ...

مزید پڑھیے

ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے

ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے ہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے ادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے ادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے ابھی تک اک کھٹک سی ہے ابھی تک اک چبھن سی ہے اگرچہ ہم نے اپنے دل سے ہر کانٹا نکالا ہے غلط ہی لوگ کہتے ہیں بھلائی کر ...

مزید پڑھیے

نکتہ چینی ہے اور آراستن دامن ہے

نکتہ چینی ہے اور آراستن دامن ہے جامۂ یار میں عنقا شکن دامن ہے دامن گل سے بھی ہلکا وزن دامن ہے اس پہ بھی بار اسے ایک ایک شکن دامن ہے کسی بیکس کے لہو کے ہیں یہ چھینٹے قاتل گل حسرت سے جو پھولا چمن دامن ہے اس کا یہ کہنا کہ بس بس مرا دامن چھوڑو نقش سینے پہ وہ دل کش سخن دامن ہے تم نے ...

مزید پڑھیے

برق بیتاب ہے تم رخ کی چمک تو دیکھو

برق بیتاب ہے تم رخ کی چمک تو دیکھو اپنی آنکھوں کی قسم نوک پلک تو دیکھو چشم میگوں کی قسم مست نگاہوں کی قسم دور ساغر کا مزا صبح تلک تو دیکھو شاخ گل کی ہے قسم میری رگ جاں کی قسم تم ذرا اپنی کمر کی یہ لچک تو دیکھو میرے زخموں کی قسم شور محبت کی قسم اپنے حسن نمک افشاں کا نمک تو ...

مزید پڑھیے

محو دیدار یار ہوں چپ ہوں

محو دیدار یار ہوں چپ ہوں اتنا بے اختیار ہوں چپ ہوں وہ رکھائی سے گھونٹتے ہیں گلا کیا کہوں بے قرار ہوں چپ ہوں راز دل گر کہوں تو حال کھلے جان و جی سے نثار ہوں چپ ہوں کون قاتل کے آگے دم مارے کیا کہوں دل فگار ہوں چپ ہوں دیکھتا یاد چشم میں تنویرؔ سیر لیل و نہار ہوں چپ ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 419 سے 4657