شاعری

جب کوئی راستہ نہیں ہوتا

جب کوئی راستہ نہیں ہوتا کون محو دعا نہیں ہوتا لوگ ظلمت سے یوں ہی نالاں ہیں روز روشن میں کیا نہیں ہوتا ٹوٹے تاروں کو چھو کے دیکھا ہے ساز دل بے صدا نہیں ہوتا ہر خوشی دل سے کیوں لگا بیٹھیں کس میں غم ہو پتہ نہیں ہوتا آؤ مل بیٹھ لو گھڑی دو گھڑی اس گھڑی کا پتہ نہیں ہوتا سرد مہری ...

مزید پڑھیے

ٹھیک ہوا جو بک گئے سینک مٹھی بھر دیناروں میں

ٹھیک ہوا جو بک گئے سینک مٹھی بھر دیناروں میں ویسے بھی تو زنگ لگا تھا پشتینی ہتھیاروں میں سرد نسوں میں چلتے چلتے گرم لہو جب برف ہوا چار پڑوسی جسم اٹھا کر جھونک آئے انگاروں میں کھیتوں کو مٹھی میں بھرنا اب تک سیکھ نہیں پایا یوں تو میرا جیون بیتا سامنتی عیاروں میں کیسے اس کے چال ...

مزید پڑھیے

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں مصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیں اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہہ دیا میں آپ کا رہوں گا مگر عمر بھر نہیں آ ہی گئے ہیں خواب تو پھر جائیں گے کہاں آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہ گزر نہیں کتنا جئیں کہاں سے جئیں اور کس لئے یہ اختیار ہم پہ ہے تقدیر پر ...

مزید پڑھیے

گھر کی بنیادیں دیواریں بام و در تھے بابو جی

گھر کی بنیادیں دیواریں بام و در تھے بابو جی سب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جی تین محلوں میں ان جیسی قد کاٹھی کا کوئی نہ تھا اچھے خاصے اونچے پورے قد آور تھے بابو جی اب تو اس سونے ماتھے پر کورے پن کی چادر ہے اما جی کی ساری سج دھج سب زیور تھے بابو جی بھیتر سے خالص جذباتی ...

مزید پڑھیے

اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے

اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے طواف کرتا ہوا موسم بہار چلے لگا کے وقت کو ٹھوکر جو خاکسار چلے یقیں کے قافلے ہم راہ بے شمار چلے نوازنا ہے تو پھر اس طرح نواز مجھے کہ میرے بعد مرا ذکر بار بار چلے یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے یہ جگنوؤں سے ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ ہوں شاد کہ ہم راہ گزر میں ہیں ابھی

کیوں نہ ہوں شاد کہ ہم راہ گزر میں ہیں ابھی دشت بے سبز میں اور دھوپ نگر میں ہیں ابھی سرخ آذر ہی مرے زخموں پہ نہ ہو یوں مسرور کئی شہپر مرے ٹوٹے ہوئے پر میں ہیں ابھی ان دھندلکوں کی ہر اک چال تو شاطر ہے مگر نقرئی نقش مرے دست ہنر میں ہیں ابھی عمر بھر میں تو رہا خانہ بدوشی میں ادھر کچھ ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ سیرابی کی ارزانی ہے

ہر لمحہ سیرابی کی ارزانی ہے مٹی کے کوزے میں ٹھنڈا پانی ہے چپکے چپکے روتا ہے تنہائی میں وہ جو شہر کے ہر میلے کا بانی ہے ندی کنارے شہر پناہیں بالوں کی ساون کی بوچھاریں ہیں طغیانی ہے باہر دھوپ سمندر سرخ بگولے بھی اندر ہر خلیے میں رت برفانی ہے اس نے ہرذرے کو طلسم آباد کیا ہاتھ ...

مزید پڑھیے

جلتے ہوئے جنگل سے گزرنا تھا ہمیں بھی

جلتے ہوئے جنگل سے گزرنا تھا ہمیں بھی پھر برف کے صحرا میں ٹھہرنا تھا ہمیں بھی میعار نوازی میں کہاں اس کو سکوں تھا اس شوخ کی نظروں سے اترنا تھا ہمیں بھی جاں بخش تھا پل بھر کے لیے لمس کسی کا پھر کرب کے دریا میں اترنا تھا ہمیں بھی یاروں کی نظر ہی میں نہ تھے پنکھ ہمارے خود اپنی ...

مزید پڑھیے

میں اپنی وسعتوں کو اس گلی میں بھول جاتا ہوں

میں اپنی وسعتوں کو اس گلی میں بھول جاتا ہوں نہ جانے کون سے جادو کے ہاتھوں میں کھلونا ہوں سفر یہ پانیوں کا جب مجھے بے آب کرتا ہے میں دریا کی روپہلی ریت کو بستر بناتا ہوں سوالوں کے کئی پتھر اٹھائے لوگ بیٹھے ہیں میں اپنا ننھا بچہ قبر میں دفنا کے لوٹا ہوں نہ جانے کس فضا میں کھو گیا ...

مزید پڑھیے

گردش کا اک لمحہ یوں بیباک ہوا

گردش کا اک لمحہ یوں بیباک ہوا سونے چاندی کا ہر منظر خاک ہوا نہر کنارے ایک سمندر پیاسا ہے ڈھلتے ہوئے سورج کا سینہ چاک ہوا اک شفاف طبیعت والا صحرائی شہر میں رہ کر کس درجہ چالاک ہوا شب اجلی دستاریں کیا سر گرم ہوئیں بھور سمے سارا منظر نمناک ہوا وہ تو اجالوں جیسا تھا اس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4194 سے 4657