شاعری

ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگا

ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگا ڈر جس کا ستاتا ہے ابھی تو نہیں ہوگا دنیا کو چلو پرکھیں نئے دوست بنائیں ہر شخص زمانے میں وہی تو نہیں ہوگا وہ شخص بڑا ہے تو غلط ہو نہیں سکتا دنیا کو بھروسہ یہ ابھی تو نہیں ہوگا ہے اس کا اشارہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہوگا تو کبھی ہوگا ابھی تو نہیں ...

مزید پڑھیے

وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے

وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے اکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہے مری بے ساختہ ہچکی مجھے کھل کر بتاتی ہے ترے اپنوں کو گاؤں میں تو اکثر یاد آتا ہے جو اپنے پاس ہوں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہمارے بھائی کو ہی لو بچھڑ کر یاد آتا ہے سپھلتا کے سفر میں تو کہاں فرصت کہ کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ مگر قافلوں سے ہم ہونے کو پھر شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ میں آئے بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہمیں ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باریکیوں سے ہم جن ...

مزید پڑھیے

جب بھی تقدیر کا ہلکا سا اشارہ ہوگا

جب بھی تقدیر کا ہلکا سا اشارہ ہوگا آسماں پر کہیں میرا بھی ستارہ ہوگا دشمنی نیند سے کر کے ہوں پشیمانی میں کس طرح اب مرے خوابوں کا گزارہ ہوگا منتظر جس کے لیے ہم ہیں کئی صدیوں سے جانے کس دور میں وہ شخص ہمارا ہوگا میں نے پلکوں کو چمکتے ہوئے دیکھا ہے ابھی آج آنکھوں میں کوئی خواب ...

مزید پڑھیے

خمار شب کا سحر دم رہا ہے آنکھوں میں

خمار شب کا سحر دم رہا ہے آنکھوں میں تمہاری زلف کا ہر خم رہا ہے آنکھوں میں وہ دن بھی آئے گا آنکھوں سے زخم ٹپکیں گے ابھی تو صرف لہو جم رہا ہے آنکھوں میں کوئی بھی رت ہو مہکتا ہے صرف ساون ہی یہ کس کا دیدۂ پر نم رہا ہے آنکھوں میں سلگتے شہر اجڑتے مکاں جھلستے بدن کثافتوں کا دھواں جم رہا ...

مزید پڑھیے

احساس دیکھ پائے وہ منظر تلاش کر

احساس دیکھ پائے وہ منظر تلاش کر آنکھیں جو ہیں تو بوئے گل تر تلاش کر میرا وجود جذب ہوا تیرے جسم میں اب مجھ کو اپنے جسم کے اندر تلاش کر تنہائیوں کے گہرے سمندر میں ڈوب جا زخموں کے پھول درد کے گوہر تلاش کر تیرا بدن تو ٹوٹ گیا وصل ہی کی شب اب آئنے میں خود کو نہ دن بھر تلاش کر ہر دل سے ...

مزید پڑھیے

تیری گرفت میں آئے نہ خود کے بس میں رہے

تیری گرفت میں آئے نہ خود کے بس میں رہے ہم ابر بن کے ہواؤں کی دسترس میں رہے وہ کون لوگ تھے صحرا میں جن کو پھول ملے چمن میں رہ کے بھی ہم لوگ خار و خس میں رہے ہماری سادہ مزاجی ہی ہم کو لے ڈوبی ہم آسمان تھے لیکن زمیں کے بس میں رہے وہ قافلے جو کہیں دشت شب میں دفن ہوئے سحر ہوئی بھی تو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے کنول لب کے چمن زار بہت تھے

آنکھوں کے کنول لب کے چمن زار بہت تھے دیوانے مگر سیر سے بیزار بہت تھے ہم لوگ کڑی دھوپ کے شیدائی تھے ورنہ یوں سر کو چھپانے در و دیوار بہت تھے ہر شخص کے چہرے پہ کئی چہرے تھے چسپاں تجھ جیسے ترے شہر میں عیار بہت تھے ٹوٹا ہوا پل ریت کی دیوار ہوا تیز لگتا ہے کہ بستی میں گنہ گار بہت ...

مزید پڑھیے

دشت میں پیاسی بھٹک کر تشنگی مر جائے گی

دشت میں پیاسی بھٹک کر تشنگی مر جائے گی یہ ہوا تو زیست کی امید بھی مر جائے گی روک سکتے ہو تو روکو مذہبی تکرار کو خون یوں بہتا رہا تو یہ صدی مر جائے گی پھر اسی کوچے میں جانے کے لئے مچلا ہے دل پھر اسی کوچے میں جا کر بے خودی مر جائے گی بولنا بے حد ضروری ہے مگر یہ سوچ لو چیخ جب ہوگی ...

مزید پڑھیے

کسی بھی شعر میں اچھا برا کیا

کسی بھی شعر میں اچھا برا کیا بس اتنا دیکھیے کس نے کہا کیا ابھی انساں تو بن پائے نہیں ہو بنوگے آدمی سے دیوتا کیا ستاروں میں یہ کیسی کھلبلی ہے فلک پر آ گیا سورج نیا کیا کتابوں سے اسے فرصت نہیں تھی وہ پڑھتا آپ کا چہرہ بھلا کیا تمہاری ہی طرح ہو جاؤں یعنی بدل لوں میں بھی اپنا راستہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4192 سے 4657