یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم
یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ مگر قافلوں سے ہم ہونے کو پھر شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ میں آئے بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہمیں ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باریکیوں سے ہم جن ...