شاعری

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں سرسری دل کی واردات نہیں ذرہ ذرہ ہے ...

مزید پڑھیے

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں شادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں خوبروئی کے لیے زشتیٔ خو بھی ہے ضرور سچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکار ہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدا دل میں سب کچھ ہے مگر رخصت ...

مزید پڑھیے

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا منہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا دل میں ہے باقی وہی حرص گناہ پھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا آؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منا اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا دل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انس ایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو کھیل ...

مزید پڑھیے

کر کے بیمار دی دوا تو نے

کر کے بیمار دی دوا تو نے جان سے پہلے دل لیا تو نے رہرو تشنہ لب نہ گھبرانا اب لیا چشمۂ بقا تو نے شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا آ کے مسجد سے کیا لیا تو نے دور ہو اے دل مآل اندیش کھو دیا عمر کا مزا تو نے ایک بیگانہ وار کر کے نگاہ کیا کیا چشم آشنا تو نے دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے ...

مزید پڑھیے

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں بس ہو چکا ...

مزید پڑھیے

بری اور بھلی سب گزر جائے گی

بری اور بھلی سب گزر جائے گی یہ کشتی یوں ہی پار اتر جائے گی ملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتا ہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی رہیں گے نہ ملاح یہ دن سدا کوئی دن میں گنگا اتر جائے گی ادھر ایک ہم اور زمانہ ادھر یہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ یہ عزت تو جائے گی پر ...

مزید پڑھیے

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر وہی اصرار ہے خطاؤں پر رہیں نا آشنا زمانہ سے حق ہے تیرا یہ آشناؤں پر رہروو با خبر رہو کہ گماں رہزنی کا ہے رہنماؤں پر ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال اڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر شہسواروں پہ بند ہے جو ...

مزید پڑھیے

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج بول کر ہم نے منہ کی کھائی آج چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ بات بگڑی بنی بنائی آج شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی پر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج بزم ساقی نے دی الٹ ساری خوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج معصیت پر ہے دیر سے یا رب نفس اور شرع میں لڑائی آج غالب آتا ہے ...

مزید پڑھیے

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکر شکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے قوت دست خدائی ہے شکیبائی میں وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے ہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے نشہ میں ...

مزید پڑھیے

لو مرے دل نے ذرا اس سے لگائی ہی نہیں

لو مرے دل نے ذرا اس سے لگائی ہی نہیں میں نے چاہت کی کبھی جوت جگائی ہی نہیں روشنی روح تک آئی ہے تو آئی کیسے جب کہ اس تک تو مری کوئی رسائی ہی نہیں اپنی رو میں ہوں بہے جاتی ہوں ندی کی طرح پتھروں کو میں کبھی دھیان میں لائی ہی نہیں کیسے بن جاتے ہیں سب کام یہ بگڑے میرے ایک نیکی تو ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4186 سے 4657