شاعری

خود سے بھی اک بات چھپایا کرتا ہوں

خود سے بھی اک بات چھپایا کرتا ہوں اپنے اندر غیر کو دیکھا کرتا ہوں اپنی صورت بھی کب اپنی لگتی ہے آئینوں میں خود کو دیکھا کرتا ہوں ارمانوں کے روپ نگر میں رہ کر بھی خود کو تنہا تنہا پایا کرتا ہوں گلشن گلشن صحرا صحرا برسوں سے آوارہ آوارہ گھوما کرتا ہوں فرضی قصوں جھوٹی باتوں سے ...

مزید پڑھیے

پھینکیں بھی یہ لباس بدن کا اتار کے

پھینکیں بھی یہ لباس بدن کا اتار کے کب تک رہیں گرفت میں لیل و نہار کے تسخیر کائنات و حوادث کے باوجود حد پا سکے نہ جبر و غم و اختیار کے بکھرا ہمیشہ ریگ کی صورت ہواؤں میں ٹھہرا کبھی نہ مثل کسی کوہسار کے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں دشت خیال میں خاموش ہو چکا بھی سمندر پکار کے تنویرؔ آگہی ...

مزید پڑھیے

تو کہاں ہے مجھے او خواب دکھانے والے (ردیف .. ب)

تو کہاں ہے مجھے او خواب دکھانے والے آ کہ دکھلاؤں تجھے میں ترے وعدوں کی کتاب یاد ہیں تجھ کو وہ مہکے ہوئے رنگین خطوط کس قدر پیار سے لاتی تھیں نصابوں کی کتاب اب کوئی خواب میں دیکھوں کہاں فرصت ہے مجھے میری بے خواب نگاہوں میں ہے یادوں کی کتاب یہ تو ممکن ہے بیاں ہجر کی روداد کروں ہے ...

مزید پڑھیے

اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو

اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو آنکھوں کو میری اپنے لیے آئنہ کرو وعدے وفا کیے نہ کبھی تم نے جان جاں دل پھر بھی چاہتا ہے کہ وعدہ نیا کرو رہ کر تمہارے پاس بھی رہتا ہوں میں کہاں مل جاؤں پھر سے تم کو بس اتنی دعا کرو یہ دور اشتہار ہے گر کچھ نہ کر سکو خود اپنے منہ سے تم میاں مٹھو بنا ...

مزید پڑھیے

نمی آنکھوں کی بادہ ہو گئی ہے

نمی آنکھوں کی بادہ ہو گئی ہے پرانی یاد تازہ ہو گئی ہے ہے مجھ کو اعتراف جرم الفت خطا یہ بے ارادہ ہو گئی ہے چلے آؤ ہجوم شوق لے کر رہ دل اب کشادہ ہو گئی ہے گماں ہونے لگا ہے ہر یقیں پر تری ہر بات وعدہ ہو گئی ہے ملے ہو جب بھی تنہائی میں درویشؔ کوئی تقریب سادہ ہو گئی ہے

مزید پڑھیے

آج اس وقت وہ جب یاد آیا

آج اس وقت وہ جب یاد آیا ''دل کے دکھنے کا سبب یاد آیا'' یاد پڑتا ہی نہیں ہے مجھ کو کب میں بھولا اسے کب یاد آیا جن کی تعبیر سے آنکھیں نم ہیں پھر وہی خواب طرب یاد آیا آج یہ رات کٹے گی کیوں کر آج پھر وہ بے سبب یاد آیا

مزید پڑھیے

لب خموش مرا بات سے زیادہ ہے

لب خموش مرا بات سے زیادہ ہے ترا فراق ملاقات سے زیادہ ہے یہ اک شکست جو ہم کو ہوئی محبت میں زمانے بھر کی فتوحات سے زیادہ ہے بہت ہی غور سے سنتا ہوں دل کی دھڑکن کو یہ اک صدا سبھی اصوات سے زیادہ ہے امید بھی ترے آنے کی آج کم ہے ادھر یہ دل کا درد بھی کل رات سے زیادہ ہے میں اس سے عشق تو ...

مزید پڑھیے

کیوں لگے ہے مجھ کو اکثر یہ جہاں دیکھا ہوا

کیوں لگے ہے مجھ کو اکثر یہ جہاں دیکھا ہوا چاند سورج کہکشائیں آسماں دیکھا ہوا دیکھا ہے جب سے تمہیں لگتا ہے کچھ دیکھا نہیں زعم تھا مجھ کو کہ ہے سارا جہاں دیکھا ہوا تم مجھے حیران بھی کر سکتے ہو سوچا نہ تھا ایسا چہرہ آنکھ نے تھا ہی کہاں دیکھا ہوا دیکھ رکھے دوستی کے نام پر دھوکے ...

مزید پڑھیے

باقی سب کچھ فانی ہے

باقی سب کچھ فانی ہے ایک وہی لافانی ہے سنتے رہتے ہیں ہم سب دنیا ایک کہانی ہے شرم و حیا سب قصے ہیں سوکھا آنکھ کا پانی ہے شعلہ نہیں شبنم بھی نہیں بس بے رنگ جوانی ہے نغمہ کوئی چھیڑو درویشؔ محفل محفل ویرانی ہے

مزید پڑھیے

کون سے دل سے کن آنکھوں یہ تماشا دیکھوں

کون سے دل سے کن آنکھوں یہ تماشا دیکھوں سچ جو بولیں سر بازار انہیں رسوا دیکھوں میری آشفتہ سری مجھ سے یہی چاہتی ہے شہروں اور گلیوں میں ہر دم ترا چرچا دیکھوں کیا یہ ممکن ہے کہ میخانے میں پیاسا رہ کر جام پہ جام میں اوروں کو لنڈھاتا دیکھوں میری آشفتہ مزاجی کا تقاضا ہے یہی سر میں ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 418 سے 4657