شاعری

ہم نے مانا کہ تغافل تیری عادت ہے ضرور

ہم نے مانا کہ تغافل تیری عادت ہے ضرور تیری افتاد میں شوخی و شرارت ہے ضرور یوں تو اس نے کیا اظہار ندامت ہے ضرور ایسا لگتا ہے کوئی اس میں شرارت ہے ضرور غیر سے سن کے مرا حال تأسف سے کہا جو یہ سچ ہے تو بری چیز محبت ہے ضرور واقعہ یہ ہے کہ انسان ہے مجبور محض سانحہ یہ ہے کہ مختار کہاوت ...

مزید پڑھیے

ایک تصویر جلانی ہے ابھی

ایک تصویر جلانی ہے ابھی ہاں مگر آنکھ میں پانی ہے ابھی اس نے جب ہاتھ ملایا تو لگا دل میں اک پھانس پرانی ہے ابھی ابھی باقی ہے بچھڑنا اس سے نا مکمل یہ کہانی ہے ابھی اے ہوا ایسی بھی عجلت کیا ہے؟ کیا کہیں آگ لگانی ہے ابھی راستہ روک رہی ہے اک یاد یہ بھی دیوار گرانی ہے ابھی یہ جو ...

مزید پڑھیے

روز تبدیل ہوا ہے مرے دل کا موسم (ردیف .. ے)

روز تبدیل ہوا ہے مرے دل کا موسم روز کمرے میں مرے سرد ہوا آئی ہے فکر کی آنچ میں پگھلے تو یہ معلوم ہوا کتنے پردوں میں چھپی ذات کی سچائی ہے روز آنکھوں میں اتر جاتا ہے خنجر کوئی ان دنوں اہل نظر کو غم بینائی ہے میرے چہرے سے جو پڑھ سکتے ہو پڑھ لو یارو دل کی ہر بات مرے لب پہ کہاں آئی ...

مزید پڑھیے

صورتوں کے شہر میں روزن ہی روزن دیکھ کر

صورتوں کے شہر میں روزن ہی روزن دیکھ کر گھر میں آ بیٹھے کشادہ گھر کا آنگن دیکھ کر لوگ ڈالے ہیں بدن پر فکر کے رنگیں غلاف آئنوں میں شخصیت کا کھردرا پن دیکھ کر بد گماں احباب ہوتے ہیں تو ہونے دیجئے بات کیوں ہو فکر و فن کی رنگ و روغن دیکھ کر ہم چلے تھے خواہشوں کا تجزیہ کرنے مگر رک گئے ...

مزید پڑھیے

دشت میں جو بھی ہے جیسا مرا دیکھا ہوا ہے

دشت میں جو بھی ہے جیسا مرا دیکھا ہوا ہے راستہ اس کے سفر کا مرا دیکھا ہوا ہے کس لئے چیختا چنگھاڑتا رہتا ہے بہت موج در موج یہ دریا مرا دیکھا ہوا ہے وقت کے ساتھ جو تبدیل ہوا کرتا ہے آئنہ آئنہ چہرا مرا دیکھا ہوا ہے رنگ و روغن مری تصویر کو دینے والا آب شفاف ہے کتنا مرا دیکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

احباب ہو گئے ہیں بہت مجھ سے بد گمان

احباب ہو گئے ہیں بہت مجھ سے بد گمان قینچی کی طرح چلنے لگی ہے مری زبان اک بات میری ان کی توجہ نہ پا سکی کہتے تھے لوگ ہوتے ہیں دیوار کے بھی کان کھڑکی کو کھول کر تو کسی روز جھانک لو خالی ہے آج کل مرے احساس کا مکان تنہا اداس کمرے میں بیٹھا ہوا تھا میں اک لفظ نے بکھیر دئے مشک و ...

مزید پڑھیے

سوچ کا زہر نہ اب شام و سحر دے کوئی

سوچ کا زہر نہ اب شام و سحر دے کوئی عام ہے بے خبری ایسی خبر دے کوئی سیر آفاق ہو کیوں مشغلۂ فکر و نظر کاش میرے پر پرواز کتر دے کوئی دور تک بکھرا ہوا ریت کی صورت ہے وجود خود کو آواز ادھر دے کہ ادھر دے کوئی میرے الفاظ نہ کر پائے معانی کو اسیر کتنے دریاؤں کو اک کوزے میں بھر دے ...

مزید پڑھیے

کر گیا صد پارہ جو پل میں دل نخچیر ہے

کر گیا صد پارہ جو پل میں دل نخچیر ہے صید گاہ عشق سے نکلا ہوا اک تیر ہے ہو گیا پیوست پیکاں تیر حسن یار کا یہ مرا ہے خواب یا آئینۂ تعبیر ہے قابل تحسین کب تھی داستاں مے خوار کی کچھ ہے ساقی کا کرم کچھ شوخیٔ تحریر ہے کر نہیں سکتے علاج اس کا طبیبان جہاں اس مریض عشق کو یہ درد ہی اکسیر ...

مزید پڑھیے

گر میں ان سے ملا نہیں ہوتا

گر میں ان سے ملا نہیں ہوتا عشق کا سانحہ نہیں ہوتا روز ہوتے ہیں حادثے لیکن جانے کیوں وہ مرا نہیں ہوتا بد گماں مجھ سے کر گیا کوئی ورنہ وہ یوں خفا نہیں ہوتا سوز ہم کو ملے مگر دائم گاہے گاہے بکا نہیں ہوتا چاہتیں ہیں کہ جو بدلتی ہیں عشق تو بارہا نہیں ہوتا جانے کیسے وفا پرست ہیں ...

مزید پڑھیے

لوگ کتنے حسین ہوتے ہیں

لوگ کتنے حسین ہوتے ہیں جو دلوں کے مکین ہوتے ہیں باز رہتے ہیں جو محبت سے نفرتوں کے امین ہوتے ہیں عشق بھی لوگو اک عبادت ہے اس کے منکر لعین ہوتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 417 سے 4657