شاعری

آب در آب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں

آب در آب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں تشنہ لب خواب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں اک سیہ رات تعاقب میں لگی رہتی ہے نجم و مہتاب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں دشت احساس تری پیاس سے میں ہار گیا ورنہ سیلاب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں جانتے ہیں کہ مجھے نیند نہیں آتی ہے پھر بھی کچھ خواب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

لکیر کھینچنا دیوار مت بنا لینا

لکیر کھینچنا دیوار مت بنا لینا تم اختلاف کو آزار مت بنا لینا بہ نام داد سخن یہ جو شور برپا ہے اسے کلام کا معیار مت بنا لینا کہانی سنتے رہو شوق سے مگر خود کو کسی کہانی کا کردار مت بنا لینا تمہارے اشکوں کی گویائی سے میں ڈرتا ہوں انہیں وسیلۂ اظہار مت بنا لینا محبتوں کے سفر میں ...

مزید پڑھیے

اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں

اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں تم صحیفہ ہو سو جزدان میں رکھا ہے تمہیں ساتھ ہونے کے یقیں میں بھی مرے ساتھ ہو تم اور نہ ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں ایک کم ظرف کے سائے سے بھلی ہے یہ دھوپ تم سمجھتے ہو کہ نقصان میں رکھا ہے تمہیں جتنے آنسو ہیں سبھی نذر کئے ہیں تم کو ہم ...

مزید پڑھیے

ذہن پر بوجھ رہا، دل بھی پریشان ہوا

ذہن پر بوجھ رہا، دل بھی پریشان ہوا ان بڑے لوگوں سے مل کر بڑا نقصان ہوا مات اب کے بھی چراغوں کو ہوئی ہے لیکن چاک اس بار ہوا کا بھی گریبان ہوا اوڑھے پھرتا ہوں شہادت کی لہو رنگ قبا رنگ تیرا تھا سو وہ ہی مری پہچان ہوا عادتاً آنکھ چھلک اٹھی ہے ہنستے ہنستے تو مرے دوست بلا وجہ پریشان ...

مزید پڑھیے

خشک آنکھوں سے کہاں طے یہ مسافت ہوگی

خشک آنکھوں سے کہاں طے یہ مسافت ہوگی دل کو سمجھایا تھا اشکوں کی ضرورت ہوگی رنگ محلوں کے حسیں خواب سے بچ کر رہنا ہے خبر گرم کہ خوابوں کی تجارت ہوگی اپنے گھر خود ہی پشیمان سا لوٹ آیا ہوں میں سمجھتا تھا اسے میری ضرورت ہوگی میری تنہائی سکوں دینے لگی ہے مجھ کو اس سے مت کہنا سنے گا تو ...

مزید پڑھیے

پلا رہا ہے زمیں کو یہاں لہو کوئی اور

پلا رہا ہے زمیں کو یہاں لہو کوئی اور مگر ہیں پھول کسی کے ہے سرخ رو کوئی اور تری طلب تھی سو ہم دار تک چلے آئے اب آرزو کوئی باقی نہ جستجو کوئی اور یہ اتفاق نہیں ہے کہ قتل ہو جائے تری کہانی میں مجھ سا ہی ہو بہ ہو کوئی اور ہمیشہ بنتی ہوئی بات کو بگاڑتے ہیں کبھی کبھی تو میں خود ہی کبھو ...

مزید پڑھیے

انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا

انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا اعتبار کی حد تک اعتبار کرنا تھا حال دل تو کہنا تھا مختصر مگر قاصد اختصار کی حد تک اختصار کرنا تھا خواب ہو کہ بیداری آہ و نالہ و زاری اختیار کی حد تک اختیار کرنا تھا اس نے حسب آسائش کی عدو کو فہمائش خاکسار کی حد تک خاکسار کرنا تھا نعش بھی مری اس ...

مزید پڑھیے

وصل‌ و فرقت عذاب ہیں دونوں

وصل‌ و فرقت عذاب ہیں دونوں باعث اضطراب ہیں دونوں کفر و ایماں ثواب ہیں دونوں تجھ سے ہی فیضیاب ہیں دونوں حسن میں آپ عشق میں احقر آپ اپنا جواب ہیں دونوں میں سر دار وہ پس چلمن کس قدر بے حجاب ہیں دونوں حسرت دید و نامرادئی شوق اک مکمل عذاب ہیں دونوں آپ کا ظلم میرا صبر و شکیب واقعی ...

مزید پڑھیے

سلسلہ تو کر قاصد اس تلک رسائی کا

سلسلہ تو کر قاصد اس تلک رسائی کا دکھ سہا نہیں جاتا یار کی جدائی کا جب ذرا مہک آئی شاخ میں لچک آئی باغباں کو دھیان آیا باغ کی صفائی کا فربہ تھا توانا تھا تیرا جانا مانا تھا جس پہ تو ہوا شیدا لونڈا ہے قصائی کا سر پہ پیر رکھتا ہے مجھ سے بیر رکھتا ہے میں نے کب کیا دعویٰ تجھ سے آشنائی ...

مزید پڑھیے

عہد پیری نے ہمیں رنگ دکھائے کیا کیا

عہد پیری نے ہمیں رنگ دکھائے کیا کیا سر پہ ہو شام تو بڑھ جاتے ہیں سائے کیا کیا ٹھوکریں لگنے لگیں ضعف بصارت کے سبب دیکھیے ضعف سماعت بھی دکھائے کیا کیا ترک الفت کی کبھی اور کبھی ترک مے کی اب تو احباب بھی دینے لگے رائے کیا کیا وائے نادانئ دل اس نے محبت کر کے رنج و غم مول لئے بیٹھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 416 سے 4657