جہاں کو ابھی تاب الفت نہیں ہے
جہاں کو ابھی تاب الفت نہیں ہے بشر میں ابھی آدمیت نہیں ہے تکلف اگر ہے حقیقت نہیں ہے تصنع زبان محبت نہیں ہے ضروری ہو جس کے لئے ایک دوزخ وہ میرے تصور کی جنت نہیں ہے مرے دل میں اک تو ہے تجھ سے حسیں تر مجھے اب تری کچھ ضرورت نہیں ہے محبت یقیناً خلاف خرد ہے مگر عقل ہی اک حقیقت نہیں ...