شاعری

مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے

مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے تجھے دل تو کب کا میں دے چکا اسے غم بنا کے بھی دیکھ لے یہ تو ٹھیک ہے کہ تری جفا بھی اک عطا مرے واسطے مری حسرتوں کی قسم تجھے کبھی مسکرا کے بھی دیکھ لے مرا دل الگ ہے بجھا سا کچھ ترے حسن پر بھی چمک نہیں کبھی ایک مرکز زیست پر انہیں ساتھ لا ...

مزید پڑھیے

ہر جلوہ پہ نگاہ کیے جا رہا ہوں میں

ہر جلوہ پہ نگاہ کیے جا رہا ہوں میں آنکھوں کو خضر راہ کئے جا رہا ہوں میں مٹنے نہ پائے تازگی لذت گناہ توبہ بھی گاہ گاہ کیے جا رہا ہوں میں کیسی یہ زندگی ہے کہ پھر بھی ہے شوق زیست گوہر نفس اک آہ کیے جا رہا ہوں میں اشکوں کی مشعلوں کو فروزاں کیے ہوئے طے التجا کی راہ کیے جا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر انقلاب کی سرخی انہیں کے افسانے

ہر انقلاب کی سرخی انہیں کے افسانے حیات دہر کا حاصل ہیں چند دیوانے خدائے ہر دوجہاں خوب ہے تری تقسیم زمیں پہ دیر و حرم اور فلک پہ میخانے ہماری جا بھی کہیں ہے خداے‌‌ دیر و حرم حرم میں غیر ہیں اور بت کدہ میں بیگانے نہ پوچھ دور‌‌‌ حقیقت کی سختیوں کو نہ پوچھ ترس گئے لب افسانہ گو ...

مزید پڑھیے

کیا روکے قضا کے وار تعویذ

کیا روکے قضا کے وار تعویذ قلعہ ہے نہ کچھ حصار تعویذ چوٹی میں ہے مشک بار تعویذ یا فتنۂ روزگار تعویذ دونوں نے نہ درد دل مٹایا گنڈے کا ہے رشتہ دار تعویذ کیا نام علی میں بھی اثر ہے چاروں ٹکڑے ہیں چار تعویذ ڈرتا ہوں نہ صبح ہو شب وصل ہے مہر وہ زرنگار تعویذ ہم کو بھی ہو کچھ امید ...

مزید پڑھیے

یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا

یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجا اگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجا آواز صور سن کے کہا دل نے قبر میں کس کی برات آئی یہ باجا کدھر بجا کہتے ہیں آسماں جو تمہارے مکاں کو ہم کہتا ہے آفتاب درست اور قمر بجا جاگو نہیں یہ خواب کا موقع مسافرو نقارا تک بھی کوچ کا وقت سحر بجا تعمیر مقبرے کی ہے ...

مزید پڑھیے

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں کسے پڑی ہے جو جا سناوے ...

مزید پڑھیے

آئینۂ رنگین جگر کچھ بھی نہیں کیا

آئینۂ رنگین جگر کچھ بھی نہیں کیا کیا حسن ہی سب کچھ ہے نظر کچھ بھی نہیں کیا چشم غلط انداز کے شایاں بھی نہ ٹھہرے جذب غم پنہاں میں اثر کچھ بھی نہیں کیا نظریں ہیں کسی کی کہ ہے اک آتش سیال یوں آگ لگانے میں خطر کچھ بھی نہیں کیا ادنیٰ سا اشارہ بھی ہے جس کا مجھے اک حکم اس پر مری آہوں کا ...

مزید پڑھیے

بشر کو مشعل ایماں سے آگہی نہ ملی

بشر کو مشعل ایماں سے آگہی نہ ملی دھواں وہ تھا کہ نگاہوں کو روشنی نہ ملی خوشی کی معرفت اور غم کی آگہی نہ ملی جسے جہاں میں محبت کی زندگی نہ ملی جگر نہ تھا کہ کوئی پھانس سی چبھی نہ ملی جہاں کی خاک اڑائی کہیں خوشی نہ ملی یہ کہہ کے آخر شب شمع ہو گئی خاموش کسی کی زندگی لینے سے زندگی نہ ...

مزید پڑھیے

دل کی دل کو خبر نہیں ملتی

دل کی دل کو خبر نہیں ملتی جب نظر سے نظر نہیں ملتی سحر آئی ہے دن کی دھوپ لیے اب نسیم سحر نہیں ملتی دل معصوم کی وہ پہلی چوٹ دوستوں سے نظر نہیں ملتی جتنے لب اتنے اس کے افسانے خبر معتبر نہیں ملتی ہے مقام جنوں سے ہوش کی رہ سب کو یہ رہ گزر نہیں ملتی نہیں ملاؔ پہ اس فغاں کا اثر جس میں ...

مزید پڑھیے

پردے کو جو لو دے وہ جھلک اور ہی کچھ ہے

پردے کو جو لو دے وہ جھلک اور ہی کچھ ہے نادیدہ ہے شعلہ تو لپک اور ہی کچھ ہے ٹکراتے ہوئے جام بھی دیتے ہیں کھنک سی لڑتی ہیں نگاہیں تو کھنک اور ہی کچھ ہے عشرت گہہ دولت بھی ہے گہوارۂ نکہت محنت کے پسینے کی مہک اور ہی کچھ ہے ہاں جوش جوانی بھی ہے اک خلد نظارہ اک طفل کی معصوم ہمک اور ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4167 سے 4657