مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے
مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے تجھے دل تو کب کا میں دے چکا اسے غم بنا کے بھی دیکھ لے یہ تو ٹھیک ہے کہ تری جفا بھی اک عطا مرے واسطے مری حسرتوں کی قسم تجھے کبھی مسکرا کے بھی دیکھ لے مرا دل الگ ہے بجھا سا کچھ ترے حسن پر بھی چمک نہیں کبھی ایک مرکز زیست پر انہیں ساتھ لا ...