شاعری

زیست ہے اک معصیت سوز دلی تیرے بغیر

زیست ہے اک معصیت سوز دلی تیرے بغیر ہاں محبت بھی ہے اک آلودگی تیرے بغیر شام غم تیرے تصور ہی سے آنکھوں میں چراغ ورنہ میرے گھر میں ہو اور روشنی تیرے بغیر یہ جہاں تنہا بھلا کیا مجھ کو دے پاتا شکست میں نے کب کھایا فریب دوستی تیرے بغیر رات کے سینہ میں ہے اک زخم جس کا نام چاند اک سنہری ...

مزید پڑھیے

گلشن ہے اسی کا نام اگر حیراں ہوں بیاباں کیا ہوگا

گلشن ہے اسی کا نام اگر حیراں ہوں بیاباں کیا ہوگا ہنگام بہاراں جب یہ ہے انجام بہاراں کیا ہوگا ساقی کے دیار رحمت میں ہندو و مسلماں کیا ہوگا اس بزم پاک نہاداں میں آلودۂ ایماں کیا ہوگا یہ جنگ تو لڑنا ہی ہوگی ہر برگ سے چاہے خوں ٹپکے کانٹوں سے جو گل ڈر جائے گا دارائے گلستاں کیا ...

مزید پڑھیے

چیز دل ہے رخ گلفام میں کیا رکھا ہے

چیز دل ہے رخ گلفام میں کیا رکھا ہے کیف صہبا میں ہے خود جام میں کیا رکھا ہے گنگناتا ہوا دل چاہیے جینے کے لئے اس نزاع سحر و شام میں کیا رکھا ہے کون کس طرح سے ہوتا ہے حریف مے زیست اور تلخابۂ ایام میں کیا رکھا ہے عشق کرتا ہے تو کر اور نگاہوں کو بلند رشتۂ رہگذر و بام میں کیا رکھا ...

مزید پڑھیے

رخ اپنا آئنہ مجھ کو بنا کے دیکھ لیا

رخ اپنا آئنہ مجھ کو بنا کے دیکھ لیا مری نگاہ کے پردے میں آ کے دیکھ لیا جو دوست تھے انہیں دشمن بنا کے دیکھ لیا زباں پہ دل کی تمنا کو لا کے دیکھ لیا حقیقت غم ہستی کے نقش مٹ نہ سکے طلسم خانۂ ارماں بنا کے دیکھ لیا وہ بے خبر مرے سوز جگر سے پھر بھی نہیں ہر اک نگاہ پہ پردہ گرا کے دیکھ ...

مزید پڑھیے

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے خالی ہے مرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارا کون کرے خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارا کون کرے کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون ...

مزید پڑھیے

زندگی گو کشتۂ آلام ہے

زندگی گو کشتۂ آلام ہے پھر بھی راحت کی امید خام ہے ہاں ابھی تیری محبت خام ہے تیرے دل میں کاوش انجام ہے عشق ہے میں ہوں دل ناکام ہے اس کے آگے بس خدا کا نام ہے آ کہاں ہے تو فریب آرزو آج ناکامی سے لینا کام ہے میں وہی ہوں دل وہی ارماں وہی ایک دھوکا گردش ایام ہے اپنے جی میں یہ کہ دنیا ...

مزید پڑھیے

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا ورنہ ترا قصور نہ کرنا قصور تھا تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا اس اک نظر کے بزم میں قصے بنے ہزار اتنا سمجھ سکا جسے جتنا شعور تھا اک ...

مزید پڑھیے

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا مجھ کو ڈر ہے اندھیرا کوئی رات کا منہ پہ ڈالے سحر کی نقاب آ گیا حسن کی یہ ادا بھی ہے کتنی حسیں اک تبسم میں سب کچھ ہے کچھ بھی نہیں اپنی اپنی سمجھ اپنا اپنا یقیں ہر سوال نظر کا جواب آ گیا بزم ہستی میں ہنگامہ برپا کیے کوئی گیتا لیے ...

مزید پڑھیے

جو شب سیاہ سے ڈر گئے کسی شام ہی میں بھٹک گئے

جو شب سیاہ سے ڈر گئے کسی شام ہی میں بھٹک گئے وہی تاجدار‌ سحر بنے جو سیاہیوں میں چمک گئے نہ بنایا منہ کسی جام پر نہ لگایا دل کسی جام سے جو لبوں تک آئے وہ پی لیے جو چھلک گئے وہ چھلک گئے ہے حیات جہد نفس نفس رہ آشیاں ہے قفس قفس جو نہ نوک خار پہ چل سکے رہ زندگی سے بھٹک گئے تجھے کچھ خبر ...

مزید پڑھیے

خموشی ساز ہوتی جا رہی ہے

خموشی ساز ہوتی جا رہی ہے نظر آواز ہوتی جا رہی ہے نظر تیری جو اک دل کی کرن تھی زمانہ ساز ہوتی جا رہی ہے نہیں آتا سمجھ میں شور ہستی بس اک آواز ہوتی جا رہی ہے خموشی جو کبھی تھی پردۂ غم یہی غماز ہوتی جا رہی ہے بدی کے سامنے نیکی ابھی تک سپر انداز ہوتی جا رہی ہے غزل ملاؔ ترے سحر بیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4165 سے 4657