فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے خون ہی خون مجھے رنگ سحر لگتا ہے علم کی دیو قدی دیکھ کے ڈر لگتا ہے آسمانوں سے اب انسان کا سر لگتا ہے مجھ کو لگتا ہے نشیمن کی مرے خیر نہیں جب کسی شاخ پہ گلشن میں تبر لگتا ہے مان لو کیسے کہ میں عیب سراپا ہوں فقط میرے احباب کا یہ حسن نظر لگتا ہے کل ...