حیران بہت تابش حسن دیگراں تھی
حیران بہت تابش حسن دیگراں تھی تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں میں کہاں تھی پھیلا کیے دریائے محبت کے کنارے ان جھیل سی آنکھوں میں کوئی چیز نہاں تھی ہر جشن طرب ناک پہ مجلس کا اثر تھا ہر اڑتے ہوئے بوسے میں گرد غم جاں تھی یا ارض یقیں پر تھی بچھی برف کی چادر یا گھیرے ہوئے پھر مجھے دنیائے ...