شاعری

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے تیر ہر شخص کی کمان میں ہے جس کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا جیسے ہر شخص امتحان میں ہے کھو چکے ہم یقین جیسی شے تو ابھی تک کسی گمان میں ہے زندگی سنگ دل سہی لیکن آئینہ بھی اسی چٹان میں ہے سربلندی نصیب ہو کیسے سرنگوں ہے کہ سائبان میں ہے خوف ہی خوف جاگتے ...

مزید پڑھیے

کسی کسی پہ خدا مہرباں زیادہ ہے

کسی کسی پہ خدا مہرباں زیادہ ہے وہ جانتا ہے ضرورت کہاں زیادہ ہے زباں سے پوچھئے مت ہاتھ دیکھیے رکھ کر بدن میں درد کہاں کم کہاں زیادہ ہے چراغ عمر کی لو نے دلا دیا احساس کہ اس میں روشنی کم ہے دھواں زیادہ ہے مری سنو تو کدورت کا کھیل مت کھیلو کہ اس میں سود بہت کم زیاں زیادہ ہے نہ ...

مزید پڑھیے

خیال یار کا سکہ اچھالنے میں گیا

خیال یار کا سکہ اچھالنے میں گیا جنوں خریطۂ زر تھا سنبھالنے میں گیا لہو جگر کا ہوا صرف رنگ دست حنا جو سودا سر میں تھا صحرا کھنگالنے میں گیا گریز پا تھا بہت حسن پارۂ ہستی سو عرصہ عمر کا زنجیر ڈالنے میں گیا نہال یادوں کی چاندی میں شب تو دن سارا کسی کے ذکر کا سونا اچھالنے میں ...

مزید پڑھیے

تاب کھو بیٹھا ہر اک جوہر خاکی میرا

تاب کھو بیٹھا ہر اک جوہر خاکی میرا جانے کس رنگ میں ہوگا گل خوبی میرا ضبط گریہ میں ہے مشاق تمنا تو بھی قطرہ قطرہ سہی دامن تو بھگوتی میرا چاک وحشت سے اتارا تو کرم بھی فرما یوں ہی کب سے ہے دھرا کوزۂ ہستی میرا تیری خوشبو ترا پیکر ہے مرے شعروں میں جان یوں ہی نہیں یہ طرز مثالی ...

مزید پڑھیے

تیری عنایتوں کا عجب رنگ ڈھنگ تھا

تیری عنایتوں کا عجب رنگ ڈھنگ تھا تیرے حضور پائے قناعت میں لنگ تھا صحرا کو روندنے کی ہوس پا بہ گل ہے اب یوں تھا کبھی کہ دامن آفاق تنگ تھا دامن کو تیرے تھام کے راحت بڑی ملی اب تک میں اپنے آپ سے مصروف جنگ تھا ہنگام یاد دل میں نہ آہٹ نہ دستکیں شورش کدے میں رات خموشی کا رنگ تھا تو ...

مزید پڑھیے

غزلوں سے تجسیم ہوئی تکمیل ہوئی

غزلوں سے تجسیم ہوئی تکمیل ہوئی نقطے نقطے سے میری ترسیل ہوئی نوچ رہی ہے روح کے ریشے ریشے کو اک خواہش جو رفتہ رفتہ چیل ہوئی مرنے لگا رگ رگ میں سفاکی کا زہر شہر دل کی آب و ہوا تبدیل ہوئی ایک جہان لا یعنی غرقاب ہوا ایک جہان معنی کی تشکیل ہوئی مصر جاں ثاقبؔ سبز و شاداب ہوا جب سے ...

مزید پڑھیے

بدن کے لقمۂ تر کو حرام کر لیا ہے

بدن کے لقمۂ تر کو حرام کر لیا ہے کہ خوان روح پہ جب سے طعام کر لیا ہے بتاؤ اڑتی ہے بازار جاں میں خاک بہت بتاؤ کیا ہمیں اپنا غلام کر لیا ہے یہ آستانۂ حسرت ہے ہم بھی جانتے ہیں دیا جلا دیا ہے اور سلام کر لیا ہے مکاں اجاڑ تھا اور لا مکاں کی خواہش تھی سو اپنے آپ سے باہر قیام کر لیا ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں

ترے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں سخن کے پاؤں مرے لڑکھڑانے لگتے ہیں جو ایک دست بریدہ سواد شوق میں ہے علم اٹھائے ہوئے اس کے شانے لگتے ہیں میں دشت ہو کی طرف جب اڑان بھرتا ہوں تری صدا کے شجر پھر بلانے لگتے ہیں خبر بھی ہے تجھے اس دفتر محبت کو جلانے جلنے میں کیا کیا زمانے لگتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

نظام بست و کشاد معنی سنوارتے ہیں

نظام بست و کشاد معنی سنوارتے ہیں ہم اپنے شعروں میں تیرا پیکر اتارتے ہیں عجب طلسمی فضا ہے ساری بلائیں چپ ہیں یہ کس بیاباں میں رات دن ہم گزارتے ہیں غبار دنیا میں گم ہے جب سے سوار وحشت عطش عطش دشت و کوہ و دریا پکارتے ہیں مسافران گماں رہیں کیوں کمر خمیدہ چلو یہ پشتارۂ تمنا اتارتے ...

مزید پڑھیے

نہ تو بیکرانی دل رہی نہ تو مد و جزر طلب رہا

نہ تو بیکرانی دل رہی نہ تو مد و جزر طلب رہا ترے بعد بحر خیال میں نہ خروش اٹھا نہ غضب رہا مرے سامنے سے گزر گیا وہ غزال دشت مراد کا میں کھڑا رہا یوں ہی بے صدا مجھے پاس حد ادب رہا اسے جاں گزاروں سے کیا شغف اسے خاکساروں سے کیا شرف وہ فضیلتوں کے دیار میں بہ حضور پائے نسب رہا وہی بیعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4157 سے 4657