شاعری

صبح آتی ہے مسرت کے پیامات لئے (ردیف .. ن)

صبح آتی ہے مسرت کے پیامات لئے زندگانی کے مہکتے ہوئے نغمات لئے شام کے دوش پہ لہراتا ہے رنگیں آنچل شب کی آغوش میں کھلتا ہے گلستان‌ غزل اس لئے میرؔ کی غالبؔ کی غزل کہتے ہیں شہر کو میرے سبھی تاج محل کہتے ہیں سوچتا ہوں نئے ماحول میں کیا بات ہوئی مدتوں بعد سحر آئی تو کیوں رات ...

مزید پڑھیے

وہی سفر جو پس کارواں نہیں ہوتا

وہی سفر جو پس کارواں نہیں ہوتا مرا سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا میں چاہتا ہوں کہ ارمان دسترس میں رہیں مجھے پتا ہے کہ بام آسماں نہیں ہوتا ہزار چیخوں میں سنتا ہوں اس کی خاموشی کوئی بھی زخم کبھی بے زباں نہیں ہوتا اگر وہ دریا ترے شہر سے گزرتا نہیں رواں تو ہوتا پر اتنا رواں نہیں ...

مزید پڑھیے

گفتگو ایک پل رکی بھی نہیں

گفتگو ایک پل رکی بھی نہیں بات کرنی تھی جو ہوئی بھی نہیں ایسے دیکھو تو سب ادھورا ہے ویسے دیکھو تو کچھ کمی بھی نہیں ہم بجھائیں گے ہم بجھائیں گے آگ جو ٹھیک سے لگی بھی نہیں مجھ سے اک شکوہ ہے زمانے کو چال پوچھی بھی اور چلی بھی نہیں ربط ٹوٹا تو ٹوٹ جانے دیا جسم کے ساتھ روح تھی بھی ...

مزید پڑھیے

کسے خبر تھی کہ جیتے جی بھی وہ دور آئے گا زندگی کا

کسے خبر تھی کہ جیتے جی بھی وہ دور آئے گا زندگی کا کہ ہوگا محسوس ہر نفس یہ نہ کوئی میرا نہ میں کسی کا حدود وہم و گماں سے گزرا مکاں تو کیا لا مکاں سے گزرا رکے گا آخر کہاں پہنچ کر یہ کارواں ذوق آگہی کا جو میرے دل سے تھا ان کو کرنا نہ کر سکیں آپ کی نگاہیں مری طبیعت میں نقص جو ہے قصور ...

مزید پڑھیے

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے وہی حاصل تھے زندگانی کے چار دن جو بہار میں گزرے کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم دل بے اعتبار میں گزرے کتنی کلیوں کے کتنے پھولوں کے قافلے نو بہار میں گزرے زندگی کے لیے ملے تھے جو دن موت کے انتظار میں گزرے حسرتوں کے ہجوم میں تری ...

مزید پڑھیے

مرے بدن سے کبھی آنچ اس طرح آئے

مرے بدن سے کبھی آنچ اس طرح آئے لپٹ کے مجھ سے مرے ساتھ وہ بھی جل جائے میں آگ ہوں تو مرے پاس کوئی کیوں بیٹھے میں راکھ ہوں تو کوئی کیوں کریدنے آئے بھرے دیار میں اب اس کو کس طرح ڈھونڈیں ہوا چلے تو کہیں بوئے ہم نفس آئے یہ رات اور روایات کی یہ زنجیریں گلی کے موڑ سے دو لوٹتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے تری گلی سے جو گزرے تو لڑکھڑا کے چلے ہمیں بھی قصۂ دار و رسن سے نسبت ہے فقیہ شہر سے کہہ دو نظر ملا کے چلے کوئی تو جانے کہ گزری ہے دل پہ کیا جب بھی خزاں کے باغ میں جھونکے خنک ہوا کے چلے اب اعتراف جفا اور کس طرح ہوگا کہ تیری بزم میں قصے مری وفا کے ...

مزید پڑھیے

جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو

جرس مے نے پکارا ہے اٹھو اور سنو شیخ آئے ہیں سوئے مے کدہ لو اور سنو کس طرح اجڑے سلگتی ہوئی یادوں کے دیے ہمدمو دل کے قریب آؤ رکو اور سنو زخم ہستی ہے کوئی زخم محبت تو نہیں ٹیس اٹھے بھی تو فریاد نہ ہو اور سنو خود ہی ہر گھاؤ پہ کہتے ہو زباں گنگ رہے خود ہی پھر پرسش احوال کرو اور ...

مزید پڑھیے

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو اپنے ہی گھر میں کسی نے آگ دہکائی نہ ہو راستے میں اس سے پہلے کب تھا اتنا اژدحام جو تماشہ بن رہا ہے وہ تماشائی نہ ہو جو ملا نظریں چرا کر چل دیا اب کیا کہیں شہر میں رہ کر کبھی اتنی شناسائی نہ ہو اپنی ہی آواز پر چونکے ہیں ہم تو بار بار اے رفیقو بزم ...

مزید پڑھیے

منزل‌ شمس و قمر سے گزرے

منزل‌ شمس و قمر سے گزرے جب تری راہ گزر سے گزرے شب کی گاتی ہوئی تنہائی میں کتنے طوفاں تھے جو سر سے گزرے وہیں پت جھڑ نے پڑاؤ ڈالا قافلے گل کے جدھر سے گزرے ہر طرف ثبت ہیں قدموں کے نشاں کوئی کس راہ گزر سے گزرے کس قدر خود پہ ہمیں پیار آیا آج جب اپنی نظر سے گزرے سرخیٔ گل سے بھی چونکے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4149 سے 4657