شاعری

رقص جنوں کی گرمئ تاثیر دیکھنا

رقص جنوں کی گرمئ تاثیر دیکھنا کھلتا ہے کیسے حلقۂ زنجیر دیکھنا گھس گھس کے پتھروں کو بنایا ہے آئنہ دیکھیں وہ خواب ہم کو ہے تعبیر دیکھنا حربے سب ان کے ان کو ہی لوٹا دئے گئے حیرت سے بن گئے ہیں وہ تصویر دیکھنا لکھ دی زبان زخم میں روداد زندگی جسموں پہ اس کی شوخیٔ تحریر دیکھنا اب تو ...

مزید پڑھیے

جب کوئی لیتا ہے میرے سامنے نام غزل

جب کوئی لیتا ہے میرے سامنے نام غزل یاد آتا ہے مجھے اک نازک اندام‌ غزل اس حریم ناز اس خلوت سرائے راز میں بارہا جذبات نے باندھا ہے احرام غزل ایک رشک ماہ کا میں کر رہا ہوں تذکرہ آسماں سے کیوں نہ ہو اونچا مرا بام غزل مے کدہ بھی گونج اٹھا شور نوشا نوش سے کس قدر ہے کیف آور یہ مرا جام ...

مزید پڑھیے

آشفتہ نوائی سے اپنی دنیا کو جگاتا جاتا ہوں

آشفتہ نوائی سے اپنی دنیا کو جگاتا جاتا ہوں دیوانہ ہوں دیوانوں کو میں ہوش میں لاتا جاتا ہوں امید کی شمعیں رہ رہ کر میں دل میں جلاتا جاتا ہوں جب جل چکتی ہیں یہ شمعیں پھر سب کو بجھاتا جاتا ہوں تم دیکھ رہے ہو میخانے میں جرأت رندانہ میری میں خود بھی پیتا جاتا ہوں تم کو بھی پلاتا جاتا ...

مزید پڑھیے

نہیں کچھ انتہا افسردگی کی

نہیں کچھ انتہا افسردگی کی یہی ہے رسم شاید عاشقی کی لب لعلیں پہ یہ لہریں ہنسی کی یہی ڈوبے نہ کشتی زندگی کی ڈھلے آنسو کہ یہ ٹوٹے ستارے سکوت شب میں یاد آئی کسی کی چمن میں بوٹا بوٹا دیکھتا ہے ادائیں ان کی مستانہ روی کی بڑھائے جا قدم ذوق طلب میں شکایت کر نہ عجز و خستگی کی اسی کا ...

مزید پڑھیے

تم جلوہ دکھاؤ تو ذرا پردۂ در سے

تم جلوہ دکھاؤ تو ذرا پردۂ در سے ہم تھک گئے نظارۂ خورشید و قمر سے مجبور نمائش نہیں کچھ حسن ہی ان کا ہم بھی تو ہیں مجبور تقاضائے نظر سے بچھڑا ہوا جیسے کوئی ملتے ہی لپٹ جائے یوں تیر ترا آ کے لپٹتا ہے جگر سے کٹتے نہیں کیوں شام جدائی کے یہ لمحے ملتی نہیں کیوں ظلمت شب جا کے سحر ...

مزید پڑھیے

سوز ہے دل کے داغ میں اب تک

سوز ہے دل کے داغ میں اب تک روشنی ہے چراغ میں اب تک زلف مشکیں تھی مہرباں کس کی بو بسی ہے دماغ میں اب تک تشنہ کاموں کو اس سے کیا حاصل مے دھری ہے ایاغ میں اب تک ہائے آوارگیٔ باد صبا ہے یہ کس کے سراغ میں اب تک گو خزاں کا بھی دور دورہ ہے پھول کھلتے ہیں باغ میں اب تک روز و شب مارے مارے ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں

اپنی ہستی کو یہاں بے مدعا سمجھا تھا میں کیا سمجھنا چاہئے تھا اور کیا سمجھا تھا میں تم کو اپنے درد دل کی گر دوا سمجھا تھا میں کیا غلط سمجھا تھا میں بالکل بجا سمجھا تھا میں کس غلط فہمی میں اپنی عمر ساری کٹ گئی اک وفا نا آشنا کو با وفا سمجھا تھا میں کچھ نہ پوچھو راہ الفت میں مری ...

مزید پڑھیے

نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں

نہ کچھ عالم سمجھتے ہیں نہ کچھ جاہل سمجھتے ہیں محبت کی حقیقت کو بس اہل دل سمجھتے ہیں نشان منزل مقصود پا کر بھی نہ جو ٹھہرے اسی رہرو کو ہم آسودۂ منزل سمجھتے ہیں ترے صحرا نوردوں کا مذاق جستجو توبہ غبار راہ کو یہ پردۂ محمل سمجھتے ہیں تمہیں سے ہے یہ نور شمع اور یہ سوز پروانہ تمہیں ...

مزید پڑھیے

مجھے دیر بھی ہو کیوں کر نہ حرم کی طرح پیارا

مجھے دیر بھی ہو کیوں کر نہ حرم کی طرح پیارا تو یہاں بھی جلوہ آرا تو وہاں بھی جلوہ آرا ہے عجیب یہ تماشا ہے عجیب یہ نظارا مری آہوں کا شرارہ مرے آنسوؤں کا دھارا وہ پیام شام غم ہو کہ نوید صبح عشرت مجھے یہ بھی ہے گوارا مجھے وہ بھی ہے گوارا یوں ہی مجھ کو ڈوبنے دو انہیں موج ہائے غم ...

مزید پڑھیے

جو پوچھتے ہیں کہ یہ عشق و عاشقی کیا ہے

جو پوچھتے ہیں کہ یہ عشق و عاشقی کیا ہے وہ جانتے نہیں مقصود زندگی کیا ہے ضمیر پاک خیال بلند ذوق لطیف بس اور اس کے سوا جوہر خودی کیا ہے وفا کی آڑ میں کیا کیا ہوئی جفا ہم پر جو دوستی یہی ٹھہری تو دشمنی کیا ہے بجا ہے فرط جنوں نے ہمیں کیا رسوا جمال یار میں آخر یہ دل کشی کیا ہے وفور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4120 سے 4657