اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے
اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے اک ذرا دیر میں رخصت ترا بیمار ہوا چاہتا ہے آخری قسط بھی سانسوں کی چکا دے گا چکانے والا زندگی قرض سے تیرے وہ سبکبار ہوا چاہتا ہے راز سر بستہ سمجھتے رہے اب تک جسے اہل دانش منکشف آج وہی راز سر دار ہوا چاہتا ہے دل وحشی کے بہلنے کا نہیں ایک ...