شاعری

اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے

اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے اک ذرا دیر میں رخصت ترا بیمار ہوا چاہتا ہے آخری قسط بھی سانسوں کی چکا دے گا چکانے والا زندگی قرض سے تیرے وہ سبکبار ہوا چاہتا ہے راز سر بستہ سمجھتے رہے اب تک جسے اہل دانش منکشف آج وہی راز سر دار ہوا چاہتا ہے دل وحشی کے بہلنے کا نہیں ایک ...

مزید پڑھیے

اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا

اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا سوگ چند لمحوں کا میرے نام کر لینا لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا اک جنم کا میں پیاسا راستہ بھی ہے لمبا ایک قلزم مے کا انتظام کر لینا ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا یہ ...

مزید پڑھیے

اب اس سادہ کہانی کو نیا اک موڑ دینا تھا

اب اس سادہ کہانی کو نیا اک موڑ دینا تھا ذرا سی بات پر عہد وفا ہی توڑ دینا تھا مہکتا تھا بدن ہر وقت جس کے لمس خوشبو سے وہی گلدستہ دہلیز خزاں پر چھوڑ دینا تھا شکست ساز دل کا عمر بھر ماتم بھی کیا کرتے کہ اک دن ہنستے ہنستے ساز جاں ہی توڑ دینا تھا سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی ...

مزید پڑھیے

دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں

دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں چڑھتے سورج کی طرف ہم بھی تو چل کر دیکھیں بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں صاحب جبہ و دستار سے کہہ دے کوئی اس بلندی پہ وہ دیکھیں تو سنبھل کر دیکھیں کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے آسماں کی طرف ...

مزید پڑھیے

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح اس کے لب کو مرے لب رہ گئے چھوتے چھوتے میں بھی ناکام چلا آیا سکندر کی طرح رنگ سورج کا سر شام ہوا جاتا ہے زرد اس کا بھی گھر نہ ہو ویران مرے گھر کی طرح درد اس عہد کی میراث ہے ڈرنا کیسا درد کو اوڑھ لیا کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے

یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے کہ تیری آنکھیں جاگتی ہیں کس کے خواب کے لیے کتاب دل پہ لکھنے کی اجازت اس نے دی نہ تھی ہے سادہ آج بھی ورق یہ انتساب کے لیے مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے ہماری محضر عمل ہے زیر فیصلہ ابھی کھڑے ہیں سر ...

مزید پڑھیے

جو نہ ہوں کچھ تشریح طلب کم ہوتے ہیں

جو نہ ہوں کچھ تشریح طلب کم ہوتے ہیں اس کے اشارے سارے مبہم ہوتے ہیں ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں ایسے میں آ جاتی ہے اپنی ہی یاد آئینہ ہوتا ہے اور ہم ہوتے ہیں بھولنے لگتے ہیں جگنو بھی اپنی راہ پلکوں پر جب قطرۂ شبنم ہوتے ہیں موج بلا جب سر سے گزرنے ...

مزید پڑھیے

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا سایہ ہے پیار کا نہ محبت کی دھوپ ہے دیوار کے حصار کو گھر کہہ دیا گیا ان کے ہر ایک گوشے میں صدیاں مقیم ہیں ٹوٹی عمارتوں کو کھنڈر کہہ دیا گیا خودداریٔ انا ہے نہ پندار زیست ہے شانوں کے سارے بوجھ کو سر کہہ دیا ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم پہ شب خوں شرارتیں تیری

فصیل جسم پہ شب خوں شرارتیں تیری ذرا سی بھی نہیں بدلی ہیں عادتیں تیری یہ زخم زخم بدن اور لہو لہو یہ خواب کتاب جسم پہ اتری ہیں آیتیں تیری حصار آتش نمرود میں گھرا ہوں میں اب اتنی سست قدم کیوں ہیں رحمتیں تیری چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری یہ ...

مزید پڑھیے

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا موج ہوائے گل سا وہ گزرا تھا ایک بار پھر بھی مشام جاں میں مہک چھوڑ کر گیا آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا لرزہ گرفت لمس کی لذت سے بار بار بانہوں میں شاخ گل کی لچک چھوڑ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4119 سے 4657