جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے
جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے درد فراق و کاوش ہجراں لیے ہوئے ان آنسوؤں کی تم کو حقیقت بتائیں کیا آنکھیں ہیں میری شوکت طوفاں لیے ہوئے رنج فراق بھی ہے نشاط وصال بھی ہوں ساتھ ساتھ درد کے درماں لیے ہوئے آساں نہیں وصال تو دشوار بھی نہیں مشکل میں ہوں یہ مشکل آساں لیے ہوئے رحمت ...