شاعری

جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے

جائیں کہاں ہم آپ کا ارماں لیے ہوئے درد فراق و کاوش ہجراں لیے ہوئے ان آنسوؤں کی تم کو حقیقت بتائیں کیا آنکھیں ہیں میری شوکت طوفاں لیے ہوئے رنج فراق بھی ہے نشاط وصال بھی ہوں ساتھ ساتھ درد کے درماں لیے ہوئے آساں نہیں وصال تو دشوار بھی نہیں مشکل میں ہوں یہ مشکل آساں لیے ہوئے رحمت ...

مزید پڑھیے

ان کے وعدوں کا حال کیا کہئے

ان کے وعدوں کا حال کیا کہئے ہفتہ و ماہ و سال کیا کہئے آرزوئے وصال کیا کہئے ذہن کا انتقال کیا کہئے حسن کو میں خدا سمجھتا ہوں ہائے میرا خیال کیا کہئے وہی صبح و مسا وہی شب و روز زندگی ہے وبال کیا کہئے ان سے کوئی جواب بن نہ پڑا میرا طرز سوال کیا کہئے سسکیاں اک مریض غم کی ہائے آپ کی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر ہم کو اسیر آرزو

دیکھ کر ہم کو اسیر آرزو اور بھی وہ ہو گئے بیگانہ خو پھاڑ ڈالا دست وحشت نے جسے پھر کریں کیا اس گریباں کا رفو پھر سجاؤ محفل دار و رسن مضطرب ہے پھر زبان گفتگو گر زیادہ سے زیادہ ہوں گنہ کم نہیں ہے آیت‌ لا‌ تقنطو مجھ کو ڈر لگتا ہے اپنے شہر میں ہیں بہت اونچے یہاں کے کاخ و کو جب بھی ...

مزید پڑھیے

کتنا مختصر ہے یہ زندگی کا افسانہ

کتنا مختصر ہے یہ زندگی کا افسانہ ایک گام‌ مردانہ ایک رقص مستانہ تو ہی ایک شاکی ہے ذوق تشنہ کامی کا غرق موج صہبا ہے جبکہ سارا مے خانہ بس یہی ہے لے دے کے دوریٔ رہ منزل دو قدم دلیرانہ دو قدم شتابانہ حق تجھے ہے کیا حاصل زیر چرخ جینے کا حادثات‌‌ عالم سے تو اگر ہے بیگانہ دل نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

بلبل رنگیں نوا خاموش ہے

بلبل رنگیں نوا خاموش ہے باغ کی ساری فضا خاموش ہے گل کھلائے اس نے کیا کیا باغ میں پھر بھی کس درجہ صبا خاموش ہے آرزو جن کی تھی مجھ کو مل گئے اب زبان التجا خاموش ہے بے کسی یہ کس نے لی تیری پناہ گور کا کس کی دیا خاموش ہے شورش دل شورش محشر نہیں زندگی اپنی بھی کیا خاموش ہے سوچتی ہے ...

مزید پڑھیے

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی کہ ایک درد مسلسل ہے زندگی اپنی بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی شعور چاک گریباں کدھر ہے دامن یار جنوں کی حد سے ملی جا کے عاشقی اپنی بتا کہ یہ ...

مزید پڑھیے

جب دل ہی نہیں ہے پہلو میں پھر عشق کا سودا کون کرے

جب دل ہی نہیں ہے پہلو میں پھر عشق کا سودا کون کرے اب ان سے محبت کون کرے اب ان کی تمنا کون کرے اب ہجر کے صدمے سہنے کو پتھر کا کلیجہ کون کرے ان لمبی لمبی راتوں کا مر مر کے سویرا کون کرے ہم رسم وفا کو مانتے ہیں آداب محبت جانتے ہیں ہم بات کی تہہ پہچانتے ہیں پھر آپ کو رسوا کون کرے اے ...

مزید پڑھیے

صبح دم آیا تو کیا ہنگام شام آیا تو کیا

صبح دم آیا تو کیا ہنگام شام آیا تو کیا تو مری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا التفات اولیں کی بات ہی کچھ اور ہے مجھ تک ان کی بزم میں اب دور جام آیا تو کیا طاقت نظارہ جب منت پذیر ہوش ہو بہر جلوہ پھر کوئی بالائے بام آیا تو کیا شورش‌ ہنگامہ منصور کی تجدید ہے قتل کو میرے وہ با ایں ...

مزید پڑھیے

جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا

جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا چشم بے آب کی دہلیز پہ دریا چمکا فصل گل آئی کھلے باغ میں خوشبو کے علم دل کے ساحل پہ ترے نام کا تارا چمکا عکس بے نقش ہوئے آئنے دھندلانے لگے درد کا چاند سر بام تمنا چمکا رنگ آزاد ہوئے گل کی گرہ کھلتے ہی ایک لمحے میں عجب باغ کا چہرا چمکا پیرہن ...

مزید پڑھیے

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی بام و در پہ نقش تحریر ہوا رہ جائے گی آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی رو بہ رو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گرد پا رہ جائے گی خواب کے نشے میں جھکتی جائے گی چشم قمر رات کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4121 سے 4657