شاعری

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں مختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہے اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں تیرے امکان سے ہجرت نہیں کر ...

مزید پڑھیے

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا لیکن ایسا سب کچھ لٹ جانے کے بعد کیا اس کو اس کی اپنی قربت نے سرشار رکھا مجھے تو شاید میرے ہجر نے ہی برباد کیا میں بھی خالی ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا ہوں اس نے بھی اک ویرانے کو جا آباد کیا کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے کیسی پیاری روحوں ...

مزید پڑھیے

کھینچا ہوا ہے گردش افلاک نے مجھے

کھینچا ہوا ہے گردش افلاک نے مجھے خود سے نہیں اترنے دیا چاک نے مجھے موج ہوا میں تیرتا پھرتا تھا میں کہیں پھر یوں ہوا کہ کھینچ لیا خاک نے مجھے میں روشنی میں آ کے پشیماں بہت ہوا عریاں کیا ہے عشق کی پوشاک نے مجھے آئینے کی طرح تھا میں شفاف و آب دار گدلا دیا ہے چشم ہوس ناک نے ...

مزید پڑھیے

کل تو ترے خوابوں نے مجھ پر یوں ارزانی کی

کل تو ترے خوابوں نے مجھ پر یوں ارزانی کی ساری حسرت نکل گئی مری تن آسانی کی پڑا ہوا ہوں شام سے میں اسی باغ تازہ میں مجھ میں شاخ نکل آئی ہے رات کی رانی کی اس چوپال کے پاس اک بوڑھا برگد ہوتا تھا ایک علامت گم ہے یہاں سے مری کہانی کی تم نے کچھ پڑھ کر پھونکا مٹی کے پیالے میں یا مٹی میں ...

مزید پڑھیے

خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ

خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھ میں کیا کہوں مرا کچھ بھی گلہ نہیں مرے ساتھ میں اس کے ساتھ ہوں بے شک میں اس کے پاس نہیں وہ میرے پاس تھا لیکن وہ تھا نہیں مرے ساتھ نکل پڑا ہوں کسی کو ملے بتائے بغیر سفر بخیر کوئی بھی دعا نہیں مرے ساتھ وہ میرے دکھ میں مرا جا رہا ہے حیرت ...

مزید پڑھیے

چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے

چراغ ہاتھ میں ہو تو ہوا مصیبت ہے سو مجھ مریض انا کو شفا مصیبت ہے سہولتیں تو مجھے راس ہی نہیں آتیں قبولیت کی گھڑی میں دعا مصیبت ہے اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے میں آج ڈوب چلا ریت کے سمندر میں چہار سمت یہ رقص ہوا مصیبت ہے خود آگہی کا جو ...

مزید پڑھیے

بس ایک جسم ایک ہی قد میں پڑا رہوں

بس ایک جسم ایک ہی قد میں پڑا رہوں بے حد ہوں میں تو کیوں کسی حد میں پڑا رہوں صبح ازل ہے کب سے مرے انتظار میں جی چاہتا ہے طاق ابد میں پڑا رہوں اک روز تنگ آ کے مجھے سوچنا پڑا کب تک میں اپنی صحبت بد میں پڑا رہوں آگے نکلتا جاتا ہوں میں اپنے آپ سے اب در گزر کروں کہ حسد میں پڑا رہوں بے ...

مزید پڑھیے

دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا

دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا دل بجھنے لگا تھا سو نظارے سے اٹھایا بے جان پڑا دیکھتا رہتا تھا میں اس کو اک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا اک لہر مجھے کھینچ کے لے آئی بھنور میں وہ لہر جسے میں نے کنارے سے اٹھایا گھر میں کہیں گنجائش در ہی نہیں رکھی بنیاد کو کس شک کے سہارے سے ...

مزید پڑھیے

چلا ہوس کے جہانوں کی سیر کرتا ہوا

چلا ہوس کے جہانوں کی سیر کرتا ہوا میں خالی ہاتھ خزانوں کی سیر کرتا ہوا پکارتا ہے کوئی ڈوبتا ہوا سایا لرزتے آئینہ خانوں کی سیر کرتا ہوا بہت اداس لگا آج زرد رو مہتاب گلی کے بند مکانوں کی سیر کرتا ہوا میں خود کو اپنی ہتھیلی پہ لے کے پھرتا رہا خطر کے سرخ نشانوں کی سیر کرتا ...

مزید پڑھیے

آئینہ صاف تھا دھندلا ہوا رہتا تھا میں

آئینہ صاف تھا دھندلا ہوا رہتا تھا میں اپنی صحبت میں بھی گھبرایا ہوا رہتا تھا میں اپنا چہرہ مجھے کتبے کی طرح لگتا تھا اپنے ہی جسم میں دفنایا ہوا رہتا تھا میں جس محبت کی ضرورت تھی مرے لوگوں کو اس محبت سے بھی باز آیا ہوا رہتا تھا میں تو نہیں آتا تھا جس روز ٹہلنے کے لیے شاخ کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4116 سے 4657