شاعری

یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیا

یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیا کمک میں تیر تو بھیجے کمان بھول گیا جنوں نے مجھ سے تعارف کے مرحلے میں کہا میں وہ ہنر ہوں جسے یہ جہان بھول گیا کچھ اس تپاک سے راہیں لپٹ پڑیں مجھ سے کہ میں تو سمت سفر کا نشان بھول گیا خمار قربت منزل تھا نارسی کا جواز گلی میں آ کے میں اس کا مکان بھول ...

مزید پڑھیے

کار ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا

کار ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا جب بھی ہمارا نام حوالوں میں آئے گا ٹیلوں کو ساتھ لے کے جو اڑتی رہی ہوا صحرا کا رنگ برف کے گالوں میں آئے گا جب آفتاب عمر کی ڈھلنے لگے گی دھوپ تب روشنی کا فن مرے بالوں میں آئے گا کیسا فراق کیسی جدائی کہاں کا ہجر وہ جائے گا اگر تو خیالوں میں آئے ...

مزید پڑھیے

تحیر ہے بلا کا یہ پریشانی نہیں جاتی

تحیر ہے بلا کا یہ پریشانی نہیں جاتی کہ تن ڈھکنے پہ بھی جسموں کی عریانی نہیں جاتی یہاں عہد حکومت عجز کا کس طور آئے گا کہ تاج و تخت کی فطرت سے سلطانی نہیں جاتی بجھے سورج پہ بھی آنگن مرا روشن ہی رہتا ہے دہکتے ہوں اگر جذبے تو تابانی نہیں جاتی مقدر کر لے اپنی سی ہم اپنی کر گزرتے ...

مزید پڑھیے

حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں

حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں یہ وقت امتحاں ہے اور میں ہوں مری تنہائی کا عالم نہ پوچھو خیال دوستاں ہے اور میں ہوں لبوں پر مہر خاموشی ہے لیکن نگاہوں کی زباں ہے اور میں ہوں مری تقدیر مجھ سے بد گماں ہے نصیب دشمناں ہے اور میں ہوں جگر میں سوز ہے اور دل میں میرے مرا درد نہاں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا میں اپنے گھر ہی میں رہتے ہوئے سفر میں رہا وہ خاک چھاننے والوں کا درد کیا جانے تمام عمر جو محفوظ اپنے گھر میں رہا میں ہمکنار کبھی ہو سکا نہ منزل سے ہمیشہ حلقۂ اخلاق راہبر میں رہا میں جس کے واسطے بھٹکا کیا زمانے میں وہ اشک بن کے سدا میری چشم تر ...

مزید پڑھیے

غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں

غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں کون سی چیز اختیار کریں ہم بہ قید قفس چمن سے دور کیسے اندازۂ بہار کریں فصل گل آ گئی ہے اہل جنوں پھر گریباں کو تار تار کریں کالی کالی گھٹا میں چھائی ہیں آئیے ذکر زلف یار کریں دل دیا ہے تو ان کے قدموں پر زندگانی کو بھی نثار کریں جس میں شامل ہوں سب ...

مزید پڑھیے

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ جی رہا ہوں مری سزا ہے یہ اک تبسم ہزارہا آنسو ابتدا وہ تھی انتہا ہے یہ غم بہت محترم ہے میرے لئے کیوں نہ ہو آپ کی عطا ہے یہ ہجر کی لذتوں کا کیا کہنا وہ نہ آئیں مری دعا ہے یہ دل مرا توڑ دیجئے لیکن سوچئے کس کا آئنہ ہے یہ

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی کہ ترے ساتھ یہ دنیا ہوگی

کیا خبر تھی کہ ترے ساتھ یہ دنیا ہوگی میری جانب مری تقدیر ہی تنہا ہوگی آرزو کی یہ سزا ہے کہ زمانہ ہے خلاف ان سے ملنے کی خدا جانے سزا کیا ہوگی مرمریں جسم کا چرچا لب و رخسار کی بات میری کوئی تو غزل ان کا سراپا ہوگی اشک غم پینے میں تکلیف تو ہوتی ہے مگر سوچتا ہوں کہ محبت تری رسوا ...

مزید پڑھیے

نیندیں خراب کرکے جو ہم بات کر رہے

نیندیں خراب کرکے جو ہم بات کر رہے کیوں پھر نہیں وہ ہم سے ملاقات کر رہے نظریں نظر سے ملنے پہ سدھ بدھ نہ کچھ رہی آنکھوں سے اپنے ایسے کرامات کر رہے اشکوں کے سنگ آنکھ سے بہنا پڑا اسے پتھر پہ اور ہم نہیں برسات کر رہے کچھ بھی نہیں بچا ہے کہ جس کا غرور ہو یہ زندگی بھی اس کو لو خیرات کر ...

مزید پڑھیے

بات اپنے دل کی وہ مجھ کو بتاتا کیوں نہیں

بات اپنے دل کی وہ مجھ کو بتاتا کیوں نہیں پیار گر کرتا ہے مجھ سے تو جتاتا کیوں نہیں ایک مدت ہو گئی پہچان کو اس سے مری خواب میں اب بھی بھلا ملنے وہ آتا کیوں نہیں میں اسے اپنے جگر میں دھڑکنوں سا رکھتا ہوں سانس میں سرگم سا مجھ کو وہ بساتا کیوں نہیں چاند نے پوچھا تھا مجھ سے یہ بتانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4105 سے 4657