یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیا
یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیا کمک میں تیر تو بھیجے کمان بھول گیا جنوں نے مجھ سے تعارف کے مرحلے میں کہا میں وہ ہنر ہوں جسے یہ جہان بھول گیا کچھ اس تپاک سے راہیں لپٹ پڑیں مجھ سے کہ میں تو سمت سفر کا نشان بھول گیا خمار قربت منزل تھا نارسی کا جواز گلی میں آ کے میں اس کا مکان بھول ...