شاعری

جہاں سینوں میں دل شانوں پہ سر آباد ہوتے ہیں

جہاں سینوں میں دل شانوں پہ سر آباد ہوتے ہیں وہی دو چار تو بستی میں گھر آباد ہوتے ہیں بہت ثابت قدم نکلیں گئے وقتوں کی تہذیبیں کہ اب ان کے حوالوں سے کھنڈر آباد ہوتے ہیں بزرگوں کو تبرک کی طرح رکھو مکانوں میں بلائیں رد کئے جانے سے گھر آباد ہوتے ہیں زباں بندی کے موسم میں گلی کوچوں ...

مزید پڑھیے

کہو کیا مہرباں نا مہرباں تقدیر ہوتی ہے

کہو کیا مہرباں نا مہرباں تقدیر ہوتی ہے کہا ماں کی دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے کہو کیا بات کرتی ہے کبھی صحرا کی خاموشی کہا اس خامشی میں بھی تو اک تقریر ہوتی ہے کہا میں نے کہ رنج بے مکانی کب ستاتا ہے کہا جب مقبرے یا قصر کی تعمیر ہوتی ہے کہا میں نے حصار ذات میں یہ نفس کی دنیا جواب ...

مزید پڑھیے

اب شہر میں اقدار کشی ایک ہنر ہے

اب شہر میں اقدار کشی ایک ہنر ہے فن جرم ہے معیار کشی ایک ہنر ہے دشمن سے تو کیا حق عداوت کا گلا جب یاروں کے لئے یار کشی ایک ہنر ہے کیا کیا ہے ندامت انہیں اب اپنی روش پر کہتے تھے جو کردار کشی ایک ہنر ہے جس دور میں ہو لفظ کی حرمت کی تجارت اس دور میں افکار کشی ایک ہنر ہے خاطر سے جو ...

مزید پڑھیے

یہاں جو زخم ملتے ہیں وہ سلتے ہیں یہیں میرے

یہاں جو زخم ملتے ہیں وہ سلتے ہیں یہیں میرے تمہارے شہر کے سب لوگ تو دشمن نہیں میرے تلاش عہد رفتہ میں عجائب گھر بھی دیکھے ہیں وہاں بھی سب حوالے ہیں کہیں تیرے کہیں میرے ذرا سی میں نے ترجیحات کی ترتیب بدلی تھی کہ آپس میں الجھ کر رہ گئے دنیا و دیں میرے فلک حد ہے کہ سرحد ہے زمیں معدن ...

مزید پڑھیے

خاک کا رزق یہاں ہر کس و ناکس نکلا

خاک کا رزق یہاں ہر کس و ناکس نکلا یہ بدن سینچنے والا بڑا بے بس نکلا وہ جو کرتا تھا سدا خرقۂ درویش کی بات وہ بھی دربار میں وارفتۂ اطلس نکلا زرفشاں ہے مری زرخیز زمینوں کا بدن ذرہ ذرہ مرے پنجاب کا پارس نکلا میری حیرت کو بھی تاریخ میں محفوظ کرو میرے احباب میں ہر شخص بروٹس ...

مزید پڑھیے

ستم گروں سے ڈروں چپ رہوں نباہ کروں

ستم گروں سے ڈروں چپ رہوں نباہ کروں خدا وہ وقت نہ لائے میں یہ گناہ کروں مری نظر میں انا کے شرر سلامت ہیں انہیں بجھاؤں تو تعظیم کم نگاہ کروں مری زباں کو سلیقہ نہیں گزارش کا میں اپنے حق سے زیادہ نہ کوئی چاہ کروں پہاڑ میرے تہور کا استعارہ ہے میں پستیوں سے بھلا کیسے رسم و راہ ...

مزید پڑھیے

کہاں تک اور اس دنیا سے ڈرتے ہی چلے جانا

کہاں تک اور اس دنیا سے ڈرتے ہی چلے جانا بس اب ہم سے نہیں ہوتا مکرتے ہی چلے جانا میں اب تو شہر میں اس بات سے پہچانا جاتا ہوں تمہارا ذکر کرنا اور کرتے ہی چلے جانا یہاں آنسو ہی آنسو ہیں کہاں تک اشک پونچھو گے تم اس بستی سے گزرو تو گزرتے ہی چلے جانا مری خاطر سے یہ اک زخم جو مٹی نے ...

مزید پڑھیے

مرے جنوں کو ہوس میں شمار کر لے گا

مرے جنوں کو ہوس میں شمار کر لے گا وہ میرے تیر سے مجھ کو شکار کر لے گا مجھے گماں بھی نہیں تھا کہ ڈوبتا ہوا دل محیط جسم کو اک روز پار کر لے گا میں اس کی راہ چلوں بھی تو فائدہ کیا ہے وہ کوئی اور روش اختیار کر لے گا فصیل شہر میں رکنے کی ہی نہیں یہ خبر جو کام ہم سے نہ ہوگا غبار کر لے ...

مزید پڑھیے

صداقتوں کو یہ ضد ہے زباں تلاش کروں

صداقتوں کو یہ ضد ہے زباں تلاش کروں جو شے کہیں نہ ملے میں کہاں تلاش کروں مری ہوس کے مقابل یہ شہر چھوٹے ہیں خلا میں جا کے نئی بستیاں تلاش کروں اذیتوں کی بھی اپنی ہی ایک لذت ہے میں شہر شہر پھروں نیکیاں تلاش کروں مکاں فریب خوشامد معاش سمجھوتے برائے کشتیٔ جاں بادباں تلاش کروں تو ...

مزید پڑھیے

کچھ عذر پس وعدہ خلافی نہیں رکھتے

کچھ عذر پس وعدہ خلافی نہیں رکھتے ہو کیسے مسیحا دم شافی نہیں رکھتے ایسے تو نہ تھے زخم کہ جو بھر ہی نہ پاتے احباب مگر ظرف تلافی نہیں رکھتے اس چین سے جینے میں کوئی بھید نہیں ہے بس یہ کہ تمنائیں اضافی نہیں رکھتے اس دور میں انصاف پنپ ہی نہیں سکتا اخلاص قلم جس میں صحافی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4104 سے 4657