شاعری

دستار ہنر بخشش دربار نہیں ہے

دستار ہنر بخشش دربار نہیں ہے صد شکر کہ شانوں پہ یہ سر بار نہیں ہے اب تو یہ مکاں قتل گہیں بننے لگے ہیں اچھا ہے وہ جس کا کوئی گھر بار نہیں ہے تحریص و سزا سے نہیں بدلیں گے یہ بیاں ہم اک بار نہیں جب ہے تو ہر بار نہیں ہے ہر ایک پہ کھل جائے بلا فرق مراتب ایسا ہو تو دہلیز پہ دربار نہیں ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا

بیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا مرجھائے ہوئے پھول بھی گلدان میں رکھنا کیا جانیں سفر خیر سے گزرے کہ نہ گزرے تم گھر کا پتہ بھی مرے سامان میں رکھنا کیا دن تھے مجھے شوق سے مہمان بلانا اور خود کو مگر خدمت مہمان میں رکھنا کیا وقت تھا کیا وقت ہے اس سوچ سے حاصل چھوڑو جو ہوا کیا اسے ...

مزید پڑھیے

کتنا ڈھونڈا اسے جب ایک غزل اور کہی

کتنا ڈھونڈا اسے جب ایک غزل اور کہی جب ملا ہی نہیں تب ایک غزل اور کہی ایک امید ملاقات میں لکھی سر شام اور پھر آخر شب ایک غزل اور کہی اک غزل لکھی تو غم کوئی پرانا جاگا پھر اسی غم کے سبب ایک غزل اور کہی اس غزل میں کسی بے درد کا نام آتا تھا سو پئے بزم طرب ایک غزل اور کہی جانتے بوجھتے ...

مزید پڑھیے

جب تک فصیل جسم کا در کھل نہ جائے گا

جب تک فصیل جسم کا در کھل نہ جائے گا اس دل کی یورشوں کا تسلسل نہ جائے گا خیموں سے تا فرات جو دریائے خوں ہے یہ اس پر سے مصلحت کا کوئی پل نہ جائے گا اس کو گماں نہیں تھا کہ عہد خزاں میں بھی یہ ذوق نغمہ ریزئ بلبل نہ جائے گا یہ ابر آگہی جو برستا رہا یونہی مٹی کا یہ وجود مرا گھل نہ جائے ...

مزید پڑھیے

بہ فیض آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا

بہ فیض آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا کہ خود ہی اپنے کئے کا حساب دیکھ لیا یہ نسل نسل مسافت بہل رہی ہے یوں ہی سراب جاگتے سوتے میں خواب دیکھ لیا دلوں کی تیرگی دھونے کو لوگ اٹھے ہیں جب چھتوں پر اترا ہوا آفتاب دیکھ لیا سروں سے تاج بڑے جسم سے عبائیں بڑی زمانے ہم نے ترا انتخاب دیکھ لیا وہ ...

مزید پڑھیے

ہر شعر سے میرے ترا پیکر نکل آئے

ہر شعر سے میرے ترا پیکر نکل آئے منظر کو ہٹا کر پس منظر نکل آئے یہ کون نکل آیا یہاں سیر چمن کو شاخوں سے مہکتے ہوئے زیور نکل آئے اس بار بلاوے میں کسی ماہ جبیں کے وہ زور طلب تھا کہ مرے پر نکل آئے یہ وصل سکندر کے مقدر میں نہیں تھا ہم کیسے مقدر کے سکندر نکل آئے شب آئی تو ظلمت کی مذمت ...

مزید پڑھیے

چاہے تو شوق سے مجھے وحشت دل شکار کر

چاہے تو شوق سے مجھے وحشت دل شکار کر اپنوں سے کٹ چکا ہوں میں اپنی انا ابھار کر جن کو کہا نہ جا سکا جن کو سنا نہیں گیا وہ بھی ہیں کچھ حکایتیں ان کو بھی تو شمار کر خود کو اذیتیں نہ دے مجھ کو اذیتیں نہ دے خود پہ بھی اختیار رکھ مجھ پہ بھی اعتبار کر اس کے یقین حسن کا حسن یقیں تو ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں

ہم اپنے ذوق سفر کو سفر ستارا کریں نہ کوئی زائچہ کھینچیں نہ استخارہ کریں اسی سے لفظ بنے ماں بھی ایک ہے جن میں تو کیسے حرف کی بے حرمتی گوارہ کریں اسی شرر کو جو اک عہد یاس نے بخشا کبھی دیا کبھی جگنو کبھی ستارہ کریں شعور شعر نے وہ آنکھ کھول دی دل میں کہ اب تو ہم پس امکان بھی نظارہ ...

مزید پڑھیے

بدل چکے ہیں سب اگلی روایتوں کے نصاب

بدل چکے ہیں سب اگلی روایتوں کے نصاب جو تھے ثواب و گنہ ہو گئے گناہ و ثواب نمو کے باب میں وہ بے بسی کا عالم ہے بہار مانگ رہی ہے خزاں رتوں سے گلاب بدل کے جام بھی ہم تو رہے خسارے میں ہمارے پاس لہو تھا تمہارے پاس شراب مرے کہے کو امانت سمجھنا موج ہوا میں آنے والے زمانوں سے کر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

پلکوں تک آ کے اشک کا سیلاب رہ گیا

پلکوں تک آ کے اشک کا سیلاب رہ گیا دریا درون حلقۂ گرداب رہ گیا یہ کون ہے کہ جس کو ابھارے ہوئے ہے موج وہ شخص کون تھا جو تہہ آب رہ گیا نخل انا میں زور نمو کس غضب کا تھا یہ پیڑ تو خزاں میں بھی شاداب رہ گیا کیا شہر پر کھلی ہی نہیں آیت خلوص کیا ایک میں ہی واقف آداب رہ گیا کچھ ذکر یار جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4106 سے 4657