دستار ہنر بخشش دربار نہیں ہے
دستار ہنر بخشش دربار نہیں ہے صد شکر کہ شانوں پہ یہ سر بار نہیں ہے اب تو یہ مکاں قتل گہیں بننے لگے ہیں اچھا ہے وہ جس کا کوئی گھر بار نہیں ہے تحریص و سزا سے نہیں بدلیں گے یہ بیاں ہم اک بار نہیں جب ہے تو ہر بار نہیں ہے ہر ایک پہ کھل جائے بلا فرق مراتب ایسا ہو تو دہلیز پہ دربار نہیں ...