شاعری

بھلا ہی دعاؤں سے ہوتا ہے سب کا

بھلا ہی دعاؤں سے ہوتا ہے سب کا دعا کھٹکھٹاتی ہے دروازہ رب کا بلاؤں سے رہتا ہے محفوظ ہر دم سکوں دے جو ماں باپ کو روز و شب کا مخالف ہوئے لوگ اردو کے پھر بھی جہاں بھر میں رتبہ ہے اردو ادب کا کریں قتل و غارت گری ظلم جو بھی انہیں پاس کب ہے حسب کا نسب کا کرے گا جو مظلوم پر ظلم ...

مزید پڑھیے

اپنے کردار سے گرتے ہوئے بندے دیکھے

اپنے کردار سے گرتے ہوئے بندے دیکھے میں نے انسان کی صورت میں درندے دیکھے پہلے مجرم کو ہی ملتی تھی گناہوں کی سزا اب تو معصوم کی گردن میں ہی پھندے دیکھے جن کے دم سے ہے فلک بوس مکانوں کا وجود ان کے ہیں کون سے بازار میں دھندے دیکھے آج اجڑے ہوئے لوگوں کی پنہ گاہوں میں میں نے مردوں کی ...

مزید پڑھیے

جرم ٹھہرا حال سے آگے کا نقشہ دیکھنا

جرم ٹھہرا حال سے آگے کا نقشہ دیکھنا تازگی کی آس رکھنا اور سبزہ دیکھنا آرزو کرنا چمن زاروں کی سبزہ زار کی اور تاحد نظر صحرا ہی صحرا دیکھنا عزم یہ رکھنا کہ گہرائی کا سینہ چیر دیں اور اپنے آپ کو ساحل پہ تنہا دیکھنا دھوپ کی بارش میں رہنا پیاس کی لہروں کے ساتھ ہر سراب دشت کو تصویر ...

مزید پڑھیے

شکستہ پا ہی سہی دور کی صدا ہی سہی

شکستہ پا ہی سہی دور کی صدا ہی سہی بکھر گیا جو ہوا سے وہ نقش پا ہی سہی یہ حکم ہے کہ گئے موسموں کو یاد کروں نئی رتوں کا تجسس مجھے ملا ہی سہی زمیں کے بعد ابھی آسماں کے دکھ بھی سہوں مرے لیے یہ سزا ہے بڑی عطا ہی سہی چراغ کہہ کے مرا نور مجھ سے چھین لیا چراغ پھر بھی رہوں گا بجھا ہوا ہی ...

مزید پڑھیے

ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے

ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے آج حق بات بھی کہنے دیجے لوگ تو یونہی کہا کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں تو کہنے دیجے سچا خورشید ابھر آئے گا جھوٹ کے چاند کو گہنے دیجے یہی منزل کا نشاں بھی دے گا خون رستوں پہ نہ بہنے دیجے کل نیا محل اٹھا لیجئے گا آج دیوار کو ڈھنے دیجے

مزید پڑھیے

جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا

جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا کہ جس میں بھائی لڑتے ہوں وہ گھر اچھا نہیں لگتا وہ دستار انا پہنے قبیلے کا ستارہ ہے امیر شہر کو لیکن وہ سر اچھا نہیں لگتا جو والد کا بڑھاپے میں سہارا بن نہیں سکتا جو سچ پوچھو تو ہو لخت جگر اچھا نہیں لگتا مجھے تو پیار ہے ان سے جو کام آتے ...

مزید پڑھیے

کھلا ہے پھول بہت روز میں مقدر کا

کھلا ہے پھول بہت روز میں مقدر کا بس اب نہ بند ہو دروازہ تیرے مندر کا تمام شہر ہے ہنگامۂ نشاط میں گم مگر یہ کرب یہ سناٹا میرے اندر کا کبھی نہ کھل کے ہنسا ہوں نہ رویا جی بھر کے رکھا ہے میں نے ہمیشہ قدم برابر کا صدا کسی کی ہو آتا ہے اپنے آپ سے خوف وہ اجنبی ہوں کہ گھر کا رہا نہ باہر ...

مزید پڑھیے

وہ بے وفا کوئی دم اور جو ٹھہر جاتا

وہ بے وفا کوئی دم اور جو ٹھہر جاتا رہ طلب میں یہ دل یوں نہ در بدر جاتا تری گلی میں فسانے بکھیرنے کے لئے یہ لازمی تھا کہ ہم سا ہی بے خطر جاتا تجھ اجنبی کا ہو کیا غم کہ اس اندھیرے میں میں اپنے آپ کو خود دیکھتا تو ڈر جاتا تمہاری بندش آداب سے نظر جاگی میں بے خبر تو یوں ہی راہ سے گزر ...

مزید پڑھیے

انساں کو اپنی ذات کا ادراک ہی نہیں

انساں کو اپنی ذات کا ادراک ہی نہیں اب کوئی واردات المناک ہی نہیں مظلوم کے لہو کا نہ ہو جس پہ کوئی داغ ایسی سپاہ وقت کی پوشاک ہی نہیں اس دور میں حفاظت ایماں کے واسطے حیدر کی مثل تیغ غضب ناک ہی نہیں اعمال ہیں سیاہ ہمارے مگر ہمیں شکوہ ہے مہربانئی افلاک ہی نہیں رحمت خدا کی جوش میں ...

مزید پڑھیے

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے وفا محبتوں ایثار کی کتابوں میں ہمارے پیار کے قصوں میں اقتباس آئے وفا خلوص ادا حسن زلف اور نغمہ خدا کرے یہی لہجہ غزل کو راس آئے عروج دار سبھی کو نہیں ہوا حاصل نہ جانے کتنے زمانے میں حق شناس آئے ہمارے عزم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4071 سے 4657