شاعری

بادباں کو گلہ ہواؤں سے

بادباں کو گلہ ہواؤں سے اور مجھ کو ہے ناخداؤں سے دشمنوں سے بھی اب نہیں لڑتا پہلے لڑتا تھا میں ہواؤں سے گاؤں میں لگ رہا ہے پھر میلا بچے بچھڑیں گے کتنے ماؤں سے لوگ محنت کے بیچ بوئیں گے جب بھی فرصت ملی دعاؤں سے حبس سے بجھ گیا دیا گھر کا میں بچاتا رہا ہواؤں سے میرے کھیتوں کو اس ...

مزید پڑھیے

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا میں کسی قبر کے نشاں جیسا میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا فاصلہ کیوں دلوں میں آیا ہے گھر کے آنگن کے درمیاں جیسا میرے دل کو ملا نہ لفظ کوئی میرے اشکوں کے ترجماں جیسا میرے اک شعر ...

مزید پڑھیے

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل سورج سے اپنے بچھڑی ہوئی اک کرن ہے تو تیرا نصیب جسم کے برفاب سے نکل تو مٹی پانی آگ ہوا میں ہے قید کیوں ہونے کا دے جواز تب و تاب سے نکل پھولوں میں چاند تاروں میں سورج میں اس کو دیکھ ان پتھروں کے منبر و محراب سے ...

مزید پڑھیے

چشم مشتاق تماشائے کرم چاہے ہے

چشم مشتاق تماشائے کرم چاہے ہے دل وہ برباد کرم ہے کہ ستم چاہے ہے دیر چاہے ہے نہ ظالم نہ حرم چاہے ہے تیرا دیوانہ ترا نقش قدم چاہے ہے مجھ سے قائم ہے وقار مے و مینا ساقی میں وہ میکش ہوں جسے شیخ حرم چاہے ہے

مزید پڑھیے

طپش دل نہ رہی سوزش جاں باقی ہے

طپش دل نہ رہی سوزش جاں باقی ہے شعلۂ عشق کہاں صرف دھواں باقی ہے بے حسی میں بھی یہ احساس رہا ہے اکثر ایک نشتر سا قریب رگ جاں باقی ہے مے کشو گردش دوراں سے ہراساں کیوں ہو سر مے خانہ ابھی ابر رواں باقی ہے ذکر آتا ہے جفاؤں کا ترے نام کے ساتھ دل برباد کا اتنا تو نشاں باقی ہے مدتیں ہو ...

مزید پڑھیے

وہ چاند ابر سے جس وقت بے نقاب ہوا

وہ چاند ابر سے جس وقت بے نقاب ہوا عجب شباب کے عالم میں انقلاب ہوا جنوں کے حصے میں صحرا نوردیاں آئیں تمام عمر کہاں عشق باریاب ہوا چمن میں نغمہ سرا کیوں کوئی نہیں ملتا ہوا تو کون سے موسم کا ہے عتاب ہوا مری زباں پہ تو حرف گلہ نہیں آیا وہ آپ اپنے عمل سے ہی آب آب ہوا سمجھ سکی نہ اسے ...

مزید پڑھیے

اس کے طرز گفتگو پہ دل فدا ہو جائے گا

اس کے طرز گفتگو پہ دل فدا ہو جائے گا ہاں مگر یہ دل کبھی صحرا نما ہو جائے گا ہو اگر ممکن صدف کی راہ دکھلا دے اسے ورنہ ہر قطرہ ہواؤں میں ہوا ہو جائے گا آدمی نے آج تک کھویا نہیں اپنا وجود آئینہ ٹوٹا اگر تو حادثہ ہو جائے گا باندھ لے رخت سفر جب فاصلے کا ڈر نہیں با عمل ہے جو بھی منزل ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں کر اس قدر سہما ہوا ہے آئینہ

جانے کیوں کر اس قدر سہما ہوا ہے آئینہ آئینے کو دیکھ کر بھی ڈر رہا ہے آئینہ کیا کوئی معصوم سی صورت نظر میں آ گئی کیوں سوالوں میں الجھ کر رہ گیا ہے آئینہ آپ اپنے آپ کو اس سے چھپا سکتے نہیں آپ کی اک اک ادا سے آشنا ہے آئینہ خواہشوں کے جال میں الجھا ہوا ہے ہر بشر کون کتنا بے غرض ہے ...

مزید پڑھیے

میرے ذہن و دل میں فکر و فن میں تھا

میرے ذہن و دل میں فکر و فن میں تھا نیم کا وہ پیڑ جو آنگن میں تھا جس پہ لکھا تھا مرا نام و نسب قید میں مٹی کے اس برتن میں تھا ایک وہ ہر دشت میں سیراب تھا ایک میں پیاسا ہر اک ساون میں تھا دیکھ کر بھی جو نہ دیکھا جا سکا عکس آرا وہ ہر اک درپن میں تھا کہہ نہ پایا جانے کیوں اک حرف ...

مزید پڑھیے

سکون دل نہ میسر ہوا زمانے میں

سکون دل نہ میسر ہوا زمانے میں نہ یاد رکھنے میں تم کو نہ بھول جانے میں ہمیشہ وسعت افلاک میں رہا ہے غم کہاں قیام ہے شاہیں کا آشیانے میں عروج تیرگیٔ شب سے ہو سحر پیدا یہی نظام ہے دنیا کے کارخانے میں شفق کے خون کی سرخی بھی ہو گئی شامل سحر بہ دوش ستاروں کے جھلملانے میں ابھی بہار کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4032 سے 4657