شاعری

آیا نہ آب رفتہ کبھی جوئبار میں

آیا نہ آب رفتہ کبھی جوئبار میں کیسے قرار آئے دل بے قرار میں ہنگام صبح عید میں بھی وہ مزا کہاں جو لطف مل گیا ہے شب انتظار میں بجلی گری تھی کب یہ کسی کو خبر نہیں اب تک چمن میں آگ لگی ہے بہار میں جب تک بکھر نہ جائے تری زلف عنبریں نکہت کہاں سے آئے نسیم بہار میں فرصت ملی ہے دل کو ...

مزید پڑھیے

اب ترے ہجر میں یوں عمر بسر ہوتی ہے

اب ترے ہجر میں یوں عمر بسر ہوتی ہے شام ہوتی ہے تو رو رو کے سحر ہوتی ہے کیوں سر شام امیدوں کے دیئے بجھنے لگے کتنی ویران تری راہ گزر ہوتی ہے بے خیالی میں بھی پھر ان کا خیال آتا ہے وہی تصویر مرے پیش نظر ہوتی ہے یہ اودھ ہے کہ جہاں شام کبھی ختم نہیں وہ بنارس ہے جہاں روز سحر ہوتی ...

مزید پڑھیے

بھولنے والے تجھے یاد کیا ہے برسوں

بھولنے والے تجھے یاد کیا ہے برسوں دل ویراں کو یوں آباد کیا ہے برسوں ساتھ جو دے نہ سکا راہ وفا میں اپنا بے ارادہ بھی اسے یاد کیا ہے برسوں غم جہاں میں وہ رفیق ابدی ہے اپنا جس نے ہر حال میں دل شاد کیا ہے برسوں بھول سکتا ہوں بھلا گردش دوراں تجھ کو روز تو نے ستم ایجاد کیا ہے برسوں کب ...

مزید پڑھیے

بدلی ہوئی دنیا کی نظر دیکھ رہے ہیں

بدلی ہوئی دنیا کی نظر دیکھ رہے ہیں پھلتا ہوا نفرت کا شجر دیکھ رہے ہیں بستی کے سلگتے ہوئے گھر دیکھ رہے ہیں دل دوز مناظر ہیں مگر دیکھ رہے ہیں وہ کر بھی چکے غیر سے اقرار محبت ہم بیٹھے دعاؤں میں اثر دیکھ رہے ہیں ہوتی ہے ہر اک پھول سے گلزار کی زینت نادان ہیں جو نسل شجر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات

جب ستاروں کی ردا کاندھے سے سرکاتی ہے رات چاند کے سینے سے لگ کر نور بن جاتی ہے رات خود تڑپ کر کس قدر مجھ کو بھی تڑپاتی ہے رات اشک شبنم جب مری حالت پہ برساتی ہے رات خون دل دے کر افق رنگین کر جاتی ہے رات روشنی ہونے سے پہلے قتل ہو جاتی ہے رات صبح نو سے کس لئے اس درجہ گھبراتی ہے ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں اور ضبط فغاں ہے آج کل

ہم ہیں اور ضبط فغاں ہے آج کل صبر کا پھر امتحاں ہے آج کل ہم سے روٹھا ہے تو پھر کس سے ہے خوش کس پہ آخر مہرباں ہے آج کل دل بھی پژمردہ ہے آنکھیں مضمحل یاد بس تیری جواں ہے آج کل ایک وعدہ پر مٹا دی زندگی ہم سا دیوانہ کہاں ہے آج کل گھر گئے ہم وقت کے طوفان میں اے غم جاناں کہاں ہے آج ...

مزید پڑھیے

یہ شہر ہے وہ شہر کہ جس میں ہیں بے وجہ کامیاب چہرے

یہ شہر ہے وہ شہر کہ جس میں ہیں بے وجہ کامیاب چہرے یہاں سیاست کی آندھیوں نے مٹا دیئے ماہتاب چہرے فریب کھانا نہ غم اٹھانا نہ ان کے سائے میں منہ چھپانا ہزار کانٹے چھپائے بیٹھے ہیں شوخ رنگیں گلاب چہرے کوئی بھی ہمدم نہیں ہے سچا کوئی بھی ساتھی نہیں ہے مخلص جنہیں تم اپنا سمجھ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

جو راہ چلنا ہے خود ہی چن لو یہاں کوئی راہبر نہیں ہے

جو راہ چلنا ہے خود ہی چن لو یہاں کوئی راہبر نہیں ہے یہی حقیقت ہے بات مانو تمہیں ابھی کچھ خبر نہیں ہے کسی کو سادہ دلی کا بدلہ ملا ہی کب ہے جو اب ملے گا وفا بھی دنیا میں ایک شے ہے مگر وہ اب معتبر نہیں ہے نہ جانے کب رخ ہوا بدل دے بھڑک اٹھیں پھر وہ بجھتے شعلے ہراس ہے وہ فضا پہ طاری کہیں ...

مزید پڑھیے

سورج اگا تو زندگی کی شام ہو گئی

سورج اگا تو زندگی کی شام ہو گئی اب صبح نو بھی موت کا پیغام ہو گئی دل میں سما گئیں وہ زمانے کی نفرتیں مہر و وفا بھی آخرش بدنام ہو گئی انسان سارے مسجد و مندر میں بٹ گئے انسانیت اس دور میں ناکام ہو گئی زیتون کی جو شاخ اٹھائے تھا ہاتھ میں گردن قلم اسی کی سر عام ہو گئی افشاںؔ کہاں سے ...

مزید پڑھیے

کبھی جو ختم نہ ہو ایسی تازگی دے دی

کبھی جو ختم نہ ہو ایسی تازگی دے دی تری وفا نے نئی مجھ کو زندگی دے دی ہمارے پاس تھا کیا اور متاع دل کے سوا ترے سوال پہ وہ بھی خوشی خوشی دے دی وہ شخص کون تھا جس کے خلوص پیہم نے مری حیات کو سورج سی روشنی دے دی عجیب بات ہے جس نے حیات مانگی تھی اسے تو موت ملی مجھ کو زندگی دے دی میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4033 سے 4657