شاعری

ساتویں نمبر کی صورت وہ بھی پر اسرار تھا

ساتویں نمبر کی صورت وہ بھی پر اسرار تھا میں صفر کی طرح سب کچھ تھا مگر بیکار تھا ہر نفس اب تک مرے دل کی عجب حالت رہی موت سے ڈرتا بھی تھا جینے سے بھی بیزار تھا اک شناسا نا شناسائی تھی میرے ہر طرف میرا گھر میرے لیے تو گھر نہ تھا بازار تھا میری بربادی کا ضامن دوسرا کوئی نہیں میں کہ ...

مزید پڑھیے

اثر مری زبان میں نہیں رہا

اثر مری زبان میں نہیں رہا وہ تیر اب کمان میں نہیں رہا ہے پتھروں کا قرض اس کے دوش پر جو کانچ کے مکان میں نہیں رہا الاؤ سرد ہو گئے حیات کے رچاؤ داستان میں نہیں رہا تھا جس پہ میری زندگی کا انحصار اسی کا نام دھیان میں نہیں رہا گمان ہی اثاثہ تھا یقین کا یقین ہی گمان میں نہیں ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھنے میں تو اوپر سے سخت ہوں شاید

یوں دیکھنے میں تو اوپر سے سخت ہوں شاید مگر درون بدن لخت لخت ہوں شاید مرے نصیب میں لکھی ہے شب کی تاریکی میں ڈوبتے ہوئے سورج کا بخت ہوں شاید قریب و دور نہیں ہے کوئی بھی اپنا سا اجاڑ باغ کا تنہا درخت ہوں شاید مجھے کسی نے سنا ہی نہیں توجہ سے میں بد زبان صدائے کرخت ہوں شاید نحیف ...

مزید پڑھیے

شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے

شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے میں آسماں پہ ہوں مرا سایہ زمیں پہ ہے افسانۂ حیات کا ہر ایک سانحہ تحریر حرف حرف ہماری جبیں پہ ہے دریا میں جس طرح سے ہو ماہی اسی طرح میں ہوں جہاں پہ میرا خدا بھی وہیں پہ ہے جنت خدا ہی جانے کہاں ہے کہاں نہیں مجھ کو یقین ہے کہ جہنم یہیں پہ ہے یوں ...

مزید پڑھیے

اب لوٹ کے واپس مجھے جانا بھی نہیں ہے

اب لوٹ کے واپس مجھے جانا بھی نہیں ہے وہ روٹھ گیا ہے تو منانا بھی نہیں ہے سچ ہے کہ نگاہوں سے گرانا بھی نہیں ہے پلکوں پہ مگر اس کو بٹھانا بھی نہیں ہے دامن پہ کوئی داغ لگانا بھی نہیں ہے دامن کو گناہوں سے بچانا بھی نہیں ہے غیرت کی کوئی کس طرح امید رکھے اب سب جانتے ہیں اب وہ زمانہ بھی ...

مزید پڑھیے

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے سارا عالم میرے دیوانے کا دیوانہ رہے ساقیا یوں ہی ہمیشہ حال مے خانہ رہے رقص میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے دل کا عالم دیکھ میری یاد میں یوں غرق ہے شمع پر جیسے تصدق کوئی پروانہ رہے گھر میں بچے بھوک سے بیتاب ہیں بے حال ہیں باپ لیکن سوچتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی

یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی اب وہ دشمن ہے تو پھر اس سے مروت کیسی سوچتے سوچتے یہ عمر گزر جائے گی آنے والی ہے خدا جانے مصیبت کیسی جب چراغوں کی حفاظت نہیں ہوتی تم سے پھر اندھیرا ہے گھروں میں تو شکایت کیسی چھین لے اپنی سبھی نعمتیں پہلے مجھ سے پھر یہ احساس دلا ہوتی ہے غربت ...

مزید پڑھیے

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے وہ پلٹ کر بھی جو دیکھے تو بہار آ جائے گفتگو ایسی کرو دل کو قرار آ جائے جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے کیوں نظر آئے بھلا عکس محبت اس میں دل کے شیشے پہ اگر گرد و غبار آ جائے تیری آنکھوں میں ہے بنگال کا جادو اب بھی تو جہاں دیکھے وہاں تیرا ...

مزید پڑھیے

گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا

گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا اتنی گہری نیند تو پہلے کبھی سویا نہ تھا نشۂ آوارگی جب کم ہوا تو یہ کھلا کوئی بھی رستہ مرے گھر کی طرف جاتا نہ تھا کیا گلہ اک دوسرے سے بے وفائی کا کریں ہم نے ہی اک دوسرے کو ٹھیک سے سمجھا نہ تھا گل نہ تھے جس میں وہ گلشن بھی تھا جنگل کی ...

مزید پڑھیے

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب تیرا ہر اک خیال بھی اک خوشنما گمان دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب پرچھائیں کے سوا تو نہیں ہیں ہم اور کچھ یہ رنگ و نور اور یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4031 سے 4657