تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے
تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ہوا ایڑی کے بل پھر گھومتی ہے اندھیرے سرمئی بادل ہیں ایسے زمیں اب آسماں کو ڈھونڈھتی ہے خموشی مرتعش ہونے لگی ہے کہیں بربط کی لے کیوں گونجتی ہے
تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ہوا ایڑی کے بل پھر گھومتی ہے اندھیرے سرمئی بادل ہیں ایسے زمیں اب آسماں کو ڈھونڈھتی ہے خموشی مرتعش ہونے لگی ہے کہیں بربط کی لے کیوں گونجتی ہے
ہوس پرستی و غارت گری کی لت نہ گئی یزید مر گیا لیکن یزیدیت نہ گئی گھرا رہا میں عجب کشمکش کے عالم میں کہ جب تلک مرے سانسوں کی سوت کت نہ گئی خرد کی آگ میں صدیوں جلے بدن لیکن دل و دماغ سے بوئے منافرت نہ گئی حیات و موت کے ہر انقلاب سے گزرے ہمارے سر سے مگر آسماں کی چھت نہ گئی جتن ہزار ...
باعث عرض ہنر کرب نہانی نکلا لفظ ہی منبع دریائے معانی نکلا سب کے ہونٹوں کو چھوا ابر رواں نے لیکن میرے حصے کا نہ دریاؤں میں پانی نکلا کون ہوتا ہے شریک سفر تنہائی میرا سایہ ہی مرا دشمن جانی نکلا زندگی جس کے تصور میں بسر کی ہم نے ہائے وہ شخص حقیقت میں کہانی نکلا جس کے سینے میں بھی ...
نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے مرا لباس ہی میرے لہو کا پیاسا ہے بدن کو چھوڑ کے جاؤں تو اب کہاں جاؤں جنم جنم سے مرا اس کے ساتھ رشتہ ہے مرا وجود مری اپنی ہی نگاہوں میں لباس جسم کے ہوتے ہوئے بھی ننگا ہے صلیب لاؤ اسے سرخ رو کیا جائے کوئی کتاب لیے آسماں سے اترا ہے تمہارے جسم میں ...
زندگی مجھ کو مری نظروں میں شرمندہ نہ کر مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر حال کا یہ دکھ ترے ماضی کی تجھ کو دین ہے آج تک جو کچھ کیا تو نے وہ آئندہ نہ کر تو بھی اس طوفان میں اک ریت کی دیوار ہے اپنی ہستی بھول کر ہر ایک کی نندہ نہ کر سو گنا ہوتے ہوئے بھی جس نے بازی ہار دی ایسی بزدل ...
ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا وہ خود ہی جمع ہوا اور خود بکھر بھی گیا تھی زندگی مری راہوں کے پیچ و خم کی اسیر مگر میں رات کے ہم راہ اپنے گھر بھی گیا میں دشمنوں میں بھی گھر کر نڈر رہا لیکن خود اپنے جذبۂ حیوانیت سے ڈر بھی گیا مرے لہو کی طلب نے مجھے تباہ کیا ہوس میں سنگ کی ...
برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے ہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے تری فراخ دلی کو دعائیں دیتا ہوں مرے لبوں پہ ترے لمس کا نشان تو ہے یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے سروں پہ سایہ فگن ابر آرزو نہ سہی ہمارے پاس سرابوں کا سائبان تو ہے علاوہ اس ...
لباس گرد کا اور جسم نور کا نکلا تمام وہم ہی اپنے شعور کا نکلا جو اپنے آپ سے بڑھ کر ہمارا اپنا تھا اسے قریب سے دیکھا تو دور کا نکلا بدن کے پار اترتے ہی کھل گئیں آنکھیں سراغ تیرے سراپا سے طور کا نکلا سبھی نشانیاں اس شخص پر کھری اتریں جو بھول کر بھی کبھی ذکر حور کا نکلا اٹھے جو ...
مے کشو جان کے لالے نظر آتے ہیں مجھے خالی خالی سے پیالے نظر آتے ہیں مجھے ذہن انساں نے تراشے ہیں جو یزداں کے خلاف سارے بے جان حوالے نظر آتے ہیں مجھے وقت رفتار چھلکتے ہوئے یہ روپ کلس چلتے پھرتے سے شوالے نظر آتے ہیں مجھے ہے حواسوں پہ شب ہجر کا اس درجہ اثر صبح کے رنگ بھی کالے نظر آتے ...
متاع و مال نہ دے دولت تباہی دے مجھے بھی مملکت غم کی بادشاہی دے کھڑا ہوا ہوں میں دست طلب دراز کئے نہ میرے سر کو یوں الزام کج کلاہی دے میں اپنے آپ کو کس طرح سنگسار کروں مرے خلاف مرا دل اگر گواہی دے میں ٹھہرے پانی کی مانند قید ہوں خود میں کوئی نشیب کی جانب مجھے بہا ہی دے مرے دنوں ...