شاعری

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی غم کی حدت سے پگھلتا نہیں تو بھی میں بھی اب زمانے میں محبت ہے تماشے کی طرح اس تماشے سے بہلتا نہیں تو بھی میں بھی ان سلگتی ہوئی سانسوں کو نہیں دیکھتے لوگ اور سمجھتے ہیں کہ جلتا نہیں تو بھی میں بھی اپنا نقصان برابر کا ہوا آندھی میں اب کسی شاخ پہ ...

مزید پڑھیے

آئنے کے روبرو اک آئنہ رکھتا ہوں میں

آئنے کے روبرو اک آئنہ رکھتا ہوں میں رات دن حیرت میں خود کو مبتلا رکھتا ہوں میں دوستوں والی بھی اک خوبی ہے ان میں اس لئے دشمنوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھتا ہوں میں روز و شب میں گھومتا ہوں وقت کی پر کار پر اپنے چاروں سمت کوئی دائرہ رکھتا ہوں میں کھٹکھٹانے کی بھی زحمت کوئی آخر کیوں ...

مزید پڑھیے

آشیاں چھوڑ کر نکل آئے

آشیاں چھوڑ کر نکل آئے جب پرندوں کے پر نکل آئے اس نے جب ہاتھ میں لیا پتھر کتنے بیتاب سر نکل آئے دل کریدا تو اس کے ملبے سے یاد کے بام و در نکل آئے برف تھی برف کے پگھلتے ہی پھول اس شاخ پر نکل آئے جس طرف روشنی نہیں آتی اس طرف تو اگر نکل آئے وہ مرے ساتھ کیا چلا تابشؔ وقت کے بال و پر ...

مزید پڑھیے

جب سنا اس نے کہ پیاسا مر گیا

جب سنا اس نے کہ پیاسا مر گیا شرم سے بستی کا چشمہ مر گیا تیرے آتے جی اٹھا تھا ایک شخص تیرے جاتے ہی دوبارہ مر گیا اس طرح روکے ہوئے تھا سانس میں دیکھنے والوں نے سمجھا مر گیا دوست جس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب میرے اندر کا وہ لڑکا مر گیا اس لیے پہچانتا کوئی نہیں کم جیا ہوں اور زیادہ ...

مزید پڑھیے

ساز ہاتھوں میں اٹھاؤ تو غزل پیش کروں

ساز ہاتھوں میں اٹھاؤ تو غزل پیش کروں تم نظر مجھ سے ملاؤ تو غزل پیش کروں یہ ہے پیغام محبت اسے چھپ کر نہ سنو تم مرے سامنے آؤ تو غزل پیش کروں دور ہی دور جلاؤ نہ محبت کے چراغ روشنی بن کے تم آؤ تو غزل پیش کروں تنہا تنہا سی نظر آتی ہے دنیا میری تم مرے پاس جو آؤ تو غزل پیش کروں بارہا تم ...

مزید پڑھیے

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی یہ آنکھیں بند ہوتے ہی کہانی ختم ہوگی کسی صندوق میں دیمک زدہ خط دیکھتے ہی کہا دل نے اب اس کی ہر نشانی ختم ہوگی اسے یہ شوق گہری دھند لپٹے ہر شجر سے مجھے یہ فکر کیسے بد گمانی ختم ہوگی خبر کب تھی طلسم ایسا ہے اس بھیگی نظر میں یکایک جسم سے خوں کی ...

مزید پڑھیے

لفظ کی قید سے رہا ہو جا

لفظ کی قید سے رہا ہو جا آ مری آنکھ سے ادا ہو جا پھینک دے خشک پھول یادوں کے ضد نہ کر تو بھی بے وفا ہو جا خشک پیڑوں کو کٹنا پڑتا ہے اپنے ہی اشک پی ہرا ہو جا چھیڑ اس حبس میں مہکتی غزل اور در کھولتی ہوا ہو جا سنگ برسا رہے ہیں شہر کے لوگ تو بھی یوں ہاتھ اٹھا دعا ہو جا خود کو پہچان ادھر ...

مزید پڑھیے

وہ پری زاد ہے یہ سب کو دکھانا تھا مجھے

وہ پری زاد ہے یہ سب کو دکھانا تھا مجھے صرف اک بار اسے ہاتھ لگانا تھا مجھے یہ تو میرا ہی ہنر تھا جسے اظہار ملا ورنہ مرشد نے کہاں اسم سکھانا تھا مجھے اس لیے بھی میں بہت دیر سے پہنچا تجھ تک اپنے قدموں کا ہر اک نقش مٹانا تھا مجھے اپنی تیراکی بھی کرنی تھی سبھی پر ثابت اور پھر خود کو ...

مزید پڑھیے

میں تیری آنکھ میں یہ کیا تلاش کرتا ہوں

میں تیری آنکھ میں یہ کیا تلاش کرتا ہوں بھنور کے بیچ کنارہ تلاش کرتا ہوں میں اک سکون کا لمحہ تلاش کرتا ہوں اداسیوں میں بھی رستہ تلاش کرتا ہوں جو میری آنکھ سے اوجھل کبھی نہیں ہوتا اسے میں سب سے زیادہ تلاش کرتا ہوں اسی لیے تو کبھی ڈھونڈ ہی نہیں پایا ہر ایک شخص میں خود سا تلاش کرتا ...

مزید پڑھیے

میں اس سے بات کرنے جا چکا تھا

میں اس سے بات کرنے جا چکا تھا مگر وہ شخص آگے جا چکا تھا مجھے دریا نے پھر اوپر بلایا میں اس کی حد سے نیچے جا چکا تھا ترے نقش قدم پر چلتے چلتے میں تجھ سے کتنا آگے جا چکا تھا پڑھائی ختم کرکے جب میں لوٹا کوئی افسر اسے لے جا چکا تھا وہ چلنے کو تو راضی ہو گئی تھی مگر جب میں اکیلے جا چکا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 401 سے 4657