دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں
دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں اپنی مرضی بھی شامل ہے اپنی بے توقیری میں درد اٹھا تو ریزہ دل کا گوشۂ لب پر آن جما خوش ہیں کوئی نقش تو ابھرا بارے بے تصویری میں قید میں گل جو یاد آیا تو پھول سا دامن چاک کیا اور لہو پھر روئے گویا بھولے نہیں اسیری میں جانے والے چلے گئے ...