شاعری

وہ مری راہ دیکھتی ہوگی

وہ مری راہ دیکھتی ہوگی پھر اسے نیند آ گئی ہوگی تم سے تو عشق بھی نہیں ہوتا تم سے کیا خاک شاعری ہوگی بولنے میں جو ہچکچاتی ہے وہ یقیناً پڑھی لکھی ہوگی ورنہ کمرے میں شور کیوں ہوتا اس کی تصویر بولتی ہوگی دوستو میں چلا خدا حافظ مجھ کو تنہائی ڈھونڈھتی ہوگی ورنہ دریا نے بہتے رہنا ...

مزید پڑھیے

میں ترے دھیان کے گاؤں میں نکل آیا ہوں

میں ترے دھیان کے گاؤں میں نکل آیا ہوں دھوپ کو چھوڑ کے چھاؤں میں نکل آیا ہوں اس نے ہونٹوں کے لیے تل کی دعا مانگی تھی اس کی قسمت کہ میں پاؤں میں نکل آیا ہوں خاک پر بوجھ سمجھتے تھے زمیں والے مجھے خود کو میں لے کے خلاؤں میں نکل آیا ہوں اب کے برسات بھی ہوگی تو الگ سی ہوگی چشم تر لے کے ...

مزید پڑھیے

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے اب یہی زندگی ہماری ہے میں نے اس کو پچھاڑنا ہے میاں میری سائے سے جنگ جاری ہے عشق کرنا بھی لازمی ہے مگر مجھ پہ گھر کی بھی ذمہ داری ہے پیار ہے مجھ کو زندگی سے بہت اور تو زندگی سے پیاری ہے میں کبھی خود کو چھوڑتا ہی نہیں میری خود سے الگ سی یاری ہے شہر کا شہر ...

مزید پڑھیے

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے تم پر پیاس کے معنی کھلنے والے نہیں تم نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ آج انہیں ہاتھوں میں کاسہ دیکھا ہے روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں ملبے میں اک شخص کو زندہ دیکھا ہے بابا ...

مزید پڑھیے

اس لیے کم کسی سے ملتا ہے

اس لیے کم کسی سے ملتا ہے خود سے مل کر مجھی سے ملتا ہے چشم گریہ کو دیکھئے گا کبھی دل کا دریا اسی سے ملتا ہے جس کو دیکھا نہیں کبھی میں نے تیرا چہرہ اسی سے ملتا ہے تیری آنکھیں بتا رہی ہیں مجھے خواب میں تو کسی سے ملتا ہے میں نے دیکھا تھا خواب میں اس کو وہ مری شاعری سے ملتا ہے آئینہ ...

مزید پڑھیے

غزل یہ جو ہماری ہو رہی ہے

غزل یہ جو ہماری ہو رہی ہے تری آنکھوں سے جاری ہو رہی ہے تم اپنے شہر کے بارے میں بولو یہاں تو برف باری ہو رہی ہے میں خود میں ہی بکھرتا جا رہا ہوں کہ مجھ میں سنگ باری ہو رہی ہے ہماری جیبیں کاٹی جا چکی ہیں تلاشی کیوں ہماری ہو رہی ہے فلک کے کان ہی شاید نہیں ہیں زمیں پر آہ و زاری ہو ...

مزید پڑھیے

پرندے آزمائے جا رہے تھے

پرندے آزمائے جا رہے تھے پروں سے گھر بنائے جا رہے تھے کسی صحرا سے آتی تھیں صدائیں کہیں پیڑوں کے سائے جا رہے تھے گھروں سے لوگ ہجرت کر رہے تھے چراغوں کو بجھائے جا رہے تھے پرانے پیڑ کٹتے جا رہے تھے نئے پودے لگائے جا رہے تھے کہیں مابعد ہم نے آنکھ کھولی ہمیں سپنے دکھائے جا رہے ...

مزید پڑھیے

تجربہ جو بھی ہے میرا میں وحی لکھتا ہوں

تجربہ جو بھی ہے میرا میں وحی لکھتا ہوں میں تصور کے بھروسے پہ نہیں بیٹھا ہوں جب میں باہر سے بڑا سخت نظر آؤں گا تم سمجھنا کہ میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوں جس کی خوشبو مجھے مسمار کیا کرتی ہے میں اسی قبر پہ پھولوں کی طرح کھلتا ہوں بارہا جسم نے پھر ذہن نے بیچا ہے مجھے کیا میں قدرت کی ...

مزید پڑھیے

اس نے خود فون پہ یہ مجھ سے کہا اچھا تھا

اس نے خود فون پہ یہ مجھ سے کہا اچھا تھا داغ بوسہ وہ جو کندھے پہ ملا اچھا تھا پیاس کے حق میں مرے ہونٹ دعا کرتے تھے پیاس کی چاہ میں اب جو بھی ملا اچھا تھا نیند بل کھاتی ہوئی آئی تھی ناگن کی طرح کاٹ بھی لیتی اگر وہ تو بڑا اچھا تھا یوں تو کتنے ہی خدا آئے مرے رستے میں میں نے خود ہی جو ...

مزید پڑھیے

اشک در اشک وحی لوگ رواں ملتے ہیں

اشک در اشک وحی لوگ رواں ملتے ہیں خواب کی ریت پہ جن جن کے نشاں ملتے ہیں میرے دیوان کے ماتھے پہ یہ کس نے لکھا خون میں بھیگے ورق سارے یہاں ملتے ہیں میں نے اک شخص سے اک بار یوں ہی پوچھا تھا آپ کی طرح حسیں لوگ کہاں ملتے ہیں ایک مدت سے اسے لوگ افق کہتے ہیں ایک مدت سے کئی دریا جہاں ملتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 402 سے 4657