شاعری

ہر آہ غم دل کی غماز نہیں ہوتی

ہر آہ غم دل کی غماز نہیں ہوتی اور واہ مسرت کا آغاز نہیں ہوتی جو روک نہیں پاتی اشکوں کی روانی کو وہ آنکھ غم دل کی ہم راز نہیں ہوتی ہر اشک شہنشاہی اک تاج نہیں بنتا ہر ملکہ زمانے میں ممتازؔ نہیں ہوتی ملتی ہے خموشی سے ظالم کو سزا یارو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی اک ٹھوس حقیقت ...

مزید پڑھیے

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے جنہیں شعور سے عاری قرار دیتے تھے وہی بنے ہیں قیافہ شناس افسانے لباس والے ...

مزید پڑھیے

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی کھوکھلی تہذیب کی فرزانگی ڈستی رہی شعلۂ نفرت تو بھڑکا ایک لمحہ کے لیے مدتوں پھر شہر کو اک تیرگی ڈستی رہی موت کی ناگن سے اب ہرگز وہ ڈر سکتا نہیں جس کو ساری عمر خود یہ زندگی ڈستی رہی میں نہ جانے کتنے جنموں کا ہوں پیاسا دوستو رہ کے دریا میں بھی ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ اس کے جنبش انکار بھی نہیں

ہونٹوں پہ اس کے جنبش انکار بھی نہیں آنکھوں میں کوئی شوخیٔ اقرار بھی نہیں بستی میں کوئی مونس و غم خوار بھی نہیں غالبؔ کا ہائے کوئی طرف دار بھی نہیں کشتی بری طرح ہے بھنور میں پھنسی ہوئی لیکن ہمارے ہاتھ میں پتوار بھی نہیں ان کو سزائیں دی ہیں زمانے نے بارہا ملزم بھی جو نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

تمام حسن جہاں کا جواب ہو کے رہا

تمام حسن جہاں کا جواب ہو کے رہا جو درد دل سے اٹھا آفتاب ہو کے رہا وہ بارگاہ جنوں ہے نصیب عشق وفا یہ دل یہ شوق نظر باریاب ہو کے رہا وہی سفر ہے وہی رسم آبلہ پائی یقین راہ مرا کامیاب ہو کے رہا بہت عزیز نہ کیوں ہو کہ درد ہے تیرا یہ درد بڑھ کے رہا اضطراب ہو کے رہا عجیب چیز ہے یہ شوق ...

مزید پڑھیے

نہ صحرا ہے نہ اب دیوار و در ہے

نہ صحرا ہے نہ اب دیوار و در ہے چمن میں نغمہ گر ساز سحر ہے سراغ کاروان رنگ و بو سے صبا آوارۂ گرد سفر ہے اسیرو اب در زنداں کرو باز سر ناخن کوئی عقد گہر ہے ندیمو داد دو اہل جنوں کو نمکداں زخم پا ہے زخم سر ہے

مزید پڑھیے

درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی

درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی وقت نظارہ نگاہ باریاب ان کے جلووں میں مچل کر رہ گئی آنکھ میں آنسو مچل کر رہ گئے موج دریا میں اچھل کر رہ گئی کیا کیا اے بلبل آتش نوا آشیاں میں برق جل کر رہ گئی ان کا غم مجھ کو ودیعت ہو گیا ساری دنیا ہاتھ مل کر رہ گئی

مزید پڑھیے

رقص آشفتہ سری کی کوئی تدبیر سہی

رقص آشفتہ سری کی کوئی تدبیر سہی لو مرے پاؤں میں اک اور بھی زنجیر سہی امتحاں اس دل پر شوق کا کرتے رہیے اور اس جرم وفا پر کوئی تعزیر سہی طعن و دشنام سے دیوانے نہ باز آئیں گے کوئی الزام سہی تہمت تقصیر سہی ہم تو آوارۂ صحرا ہیں ہمیں کیا مطلب ان کی محفل میں جنوں کی کوئی توقیر سہی ہر ...

مزید پڑھیے

خلوص الفاظ کام آیا نگاہ اہل فتن سے پہلے

خلوص الفاظ کام آیا نگاہ اہل فتن سے پہلے نوید دل نے مجھے پکارا صدائے دار و رسن سے پہلے وجود چرخ کہن سے پہلے قیام دار و رسن سے پہلے ہمیں تھے تیرے چمن کی زینت بہار حسن چمن سے پہلے سکوت غم کی ادا ادا کو سمجھ سکیں کاش اہل عالم اشارہ ہائے لطیف بھی ہیں جبیں پہ نقش شکن سے پہلے بہار بے ...

مزید پڑھیے

اب تخیل میں ہی تصویر بنانی ہے مجھے

اب تخیل میں ہی تصویر بنانی ہے مجھے یعنی تدبیر سے تقدیر بنانی ہے مجھے رزق کیسا ہے مقدر میں لکھا کیا ہے مرے کیا اسی فن سے ہی جاگیر بنانی ہے مجھے کتنی قاتل ہے تری آنکھیں پتا ہے تجھ کو تیری آنکھوں کو ہی شمشیر بنانی ہے مجھے تیری یادوں نے ہی توڑی ہے خاموشی میری میں تو سمجھا تھا کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4004 سے 4657