یوں تو بہت حسیں ہے بہار چمن کی یاد
یوں تو بہت حسیں ہے بہار چمن کی یاد دل پر مگر ہے نقش اسی انجمن کی یاد ہم خود غم حیات سے سینہ فگار ہیں اے دوستو دلاؤ نہ اس گل بدن کی یاد اس انتہائے تلخیٔ دوراں کے باوجود تازہ ہے آج بھی کسی شیریں دہن کی یاد پھر جی میں ہے کہ کھائیے کوئی نیا فریب پھر آ رہی ہے اک بت وعدہ شکن کی ...