شاعری

جس غم سے دل کو راحت ہو اس غم کا مداوا کیا معنی

جس غم سے دل کو راحت ہو اس غم کا مداوا کیا معنی جب فطرت طوفانی ٹھہری ساحل کی تمنا کیا معنی عشرت میں رنج کی آمیزش راحت میں الم کی آلائش جب دنیا ایسی دنیا ہے پھر دنیا دنیا کیا معنی خود شیخ و برہمن مجرم ہیں اک کام سے دونوں پی نہ سکے ساقی کی بخل پسندی پر ساقی کا شکوا کیا معنی جلووں کا ...

مزید پڑھیے

نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ

نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ یہ جہان سب ہے ترا وطن تو کدھر ہے اپنے وطن میں آ تو ہے رنگ نرگس و نسترن ہے تجھی سے رونق انجمن ترے منتظر ہیں گل و سمن تو بہار بن کے چمن میں آ تجھے لاکھ لوگ حسیں کہیں تجھ لاکھ در‌ ثمیں کہیں تری قدر ہوگی فقط یہیں تو حریم دل کے عدن میں ...

مزید پڑھیے

یہ دنیا ہے اسے دار الفتن کہنا ہی پڑتا ہے

یہ دنیا ہے اسے دار الفتن کہنا ہی پڑتا ہے یہاں ہر راہبر کو راہزن کہنا ہی پڑتا ہے وفور عقل انساں سے بڑھی انساں کشی اتنی وفور‌ عقل کو دیوانہ پن کہنا ہی پڑتا ہے وہ صحرا جس میں کٹ جاتے ہیں دن یاد بہاراں سے با الفاظ دگر اس کو چمن کہنا ہی پڑتا ہے گل‌ افشانیٔ گفتار‌ مجاہد بے اثر ہو ...

مزید پڑھیے

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے

یہ دور خرد ہے دور جنوں اس دور میں جینا مشکل ہے انگور کی مے کے دھوکے میں زہراب کا پینا مشکل ہے جب ناخن وحشت چلتے تھے روکے سے کسی کے رک نہ سکے اب چاک دل انسانیت سیتے ہیں تو سینا مشکل ہے اک صبر کے گھونٹ سے مٹ جاتی تب تشنہ لبوں کی تشنہ لبی کم ظرفیٔ دنیا کے صدقے یہ گھونٹ بھی پینا مشکل ...

مزید پڑھیے

محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتا

محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتا جگر کا ہو کہ دل کا زخم اچھا ہو نہیں سکتا وہ نالہ کوئی نالہ ہے جو کم ہو موج طوفاں سے وہ آنسو کوئی آنسو ہے جو دریا ہو نہیں سکتا تماشا ہے کہ ہم اس کو مسیحا دم سمجھتے ہیں ہمارے درد کا جس سے مداوا ہو نہیں سکتا مجھے فریاد پر مائل نہ کر اے جوش ...

مزید پڑھیے

تم نہ آؤ تو نامہ بر ہی سہی

تم نہ آؤ تو نامہ بر ہی سہی مبتدا ہو نہ ہو خبر ہی سہی اس کے سائے میں دم تو لیتا ہوں شاخ امید بے ثمر ہی سہی دل کی نکلی تو ہے بھڑاس ذرا آہ بیگانۂ اثر ہی سہی اور تو آپ سے نہ کچھ ہوگا مہربانی کی اک نظر ہی سہی چھوڑ واعظ ریا کو جام اٹھا خیر ممکن نہیں تو شر ہی سہی ایک مدت سے سن رہا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھی سراسر راز راز کن فکاں یوں بھی ہے اور یوں بھی تحیر ہے حضوری میں تو بیتابی ہے دوری میں مصیبت میں یہ جان ناتواں یوں بھی ہے اور یوں بھی تمنا کی طرح ترک تمنا بھی مصیبت ہے یہ دنیا اک مقام امتحاں یوں بھی ہے اور یوں بھی وہ آ کر بھی رلاتے ...

مزید پڑھیے

میں پرسش غم فرقت کی داد دیتا ہوں

میں پرسش غم فرقت کی داد دیتا ہوں تری لطیف ندامت کی داد دیتا ہوں ملال‌‌ ترک مراسم تو کچھ نہیں لیکن اس احتیاط محبت کی داد دیتا ہوں کہاں بہشت کہاں زندگی مگر ناصح میں تیرے حسن عقیدت کی داد دیتا ہوں تباہیاں بھی محبت کو راس آ نہ سکیں ستم ظریفیٔ فطرت کی داد دیتا ہوں او مسکرا کے ...

مزید پڑھیے

سرشک غم سمٹ کر دل کے ارمانوں کو لے ڈوبے

سرشک غم سمٹ کر دل کے ارمانوں کو لے ڈوبے یہ صاحب خانہ اپنے ساتھ مہمانوں کو لے ڈوبے دکھا کر خواب خوش آئندہ فردوس خیالی کے نئے شداد ہم معصوم انسانوں کو لے ڈوبے بناتے رہ گئے تنظیم نو کے برہمن خاکے بتوں کے حوصلے تب تک صنم خانوں کو لے ڈوبے نہ جانے کہہ دیا شبنم نے کیا آنکھوں ہی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

ستم کے مارے لہو میں ڈوبے ہوئے نظاروں کا کیا کروں گا

ستم کے مارے لہو میں ڈوبے ہوئے نظاروں کا کیا کروں گا سسکتے غنچو تمہیں بتاؤ میں ان بہاروں کا کیا کروں گا جنہیں بھروسہ ہو آسماں پر وہ آسماں سے پناہ مانگیں میں اپنے ذروں سے مطمئن ہوں میں چاند تاروں کا کیا کروں گا اگر مجھے دے سکے زمانہ تو کچھ نئے زخم اور دے دے میں غمگساروں کو جانتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4002 سے 4657