نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ

نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ
یہ جہان سب ہے ترا وطن تو کدھر ہے اپنے وطن میں آ


تو ہے رنگ نرگس و نسترن ہے تجھی سے رونق انجمن
ترے منتظر ہیں گل و سمن تو بہار بن کے چمن میں آ


تجھے لاکھ لوگ حسیں کہیں تجھ لاکھ در‌ ثمیں کہیں
تری قدر ہوگی فقط یہیں تو حریم دل کے عدن میں آ


جو خیال خلد میں ہو مگن مے و انگبیں میں ہو جس کا من
جو وطن میں رہ کے ہو بے وطن اسے کیا کہوں کہ وطن میں آ


یہ بہار باغ یہ محفلیں تری خلوتوں پہ نثار ہوں
تجھے کام غنچہ و گل سے کیا تو چمن کو چھوڑ کے بن میں آ


رہ و رسم عشق پہ رکھ نظر ہو جہان نو کا پیامبر
نہ تو عہد رفتہ کو یاد کر نہ فریب چرخ کہن میں آ


یہ کھلا نہ ہم پہ کہ تو کہاں مے شعر پی کے نکل گیا
تجھے یاد کرتے ہیں عرشؔ سب کبھی پھر بھی بزم سخن میں آ