شاعری

بستر مرگ پر زندگی کی طلب

بستر مرگ پر زندگی کی طلب جیسے ظلمت میں ہو روشنی کی طلب کل تلک کمتری جن کی تقدیر تھی آج ان کو ہوئی برتری کی طلب عمر بھر اپنی پوجا کراتا رہا اب ہوئی اس کو بھی بندگی کی طلب چیختے تھے بہت ہم ہر اک بات پر ہو گئی اب مگر خامشی کی طلب پیاس دنیا کی جس نے بجھائی سدا اس سمندر کو ہے تشنگی کی ...

مزید پڑھیے

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے یہ منزل مراد تو بس درد درد ہے اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے اس موسم بہار میں اے باغباں بتا چہرہ ہر ایک پھول کا کیوں زرد زرد ہے لفاظیوں کا گرم ہے بازار کس قدر دست عمل ہمارا مگر سرد سرد ہے کیسا تضاد شاخ ...

مزید پڑھیے

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش پچھڑے ہوئے گاؤں کا شاید ہے وہ باشندہ جو شہر میں ڈھونڈے ہے ایثار کی گنجائش نفرت کی تعصب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں پیدا ہوئی ذہنوں میں دیوار کی گنجائش پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے جسموں میں نکل آئی ...

مزید پڑھیے

سوچ کر مل ذرا توقف کر

سوچ کر مل ذرا توقف کر یوں نہ ہر ایک سے تعارف کر زندگی خرچ کرنے والے سن موت پر بھی تو کچھ تصرف کر دین انسانیت کے جوہر سے اے خدا ہم کو بھی مشرف کر حد میں رہ کر ہی بے تکلف ہو ہو نہ محسوس یوں تکلف کر جھوٹ گو کامران ہوتا ہے اپنے سچ پر نہ اب تأسف کر چھپ کے جو بیچتے ہیں ملت کو ایسے ...

مزید پڑھیے

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے توبہ کرنے میں کہاں وہ جو مزا پینے میں ہے خشک باتوں میں کہاں اے شیخ کیف زندگی وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے میں تری تحقیر کر سکتا نہیں اے ضبط شوق میرے سینے میں رہے گا راز جو سینے میں ہے عرشؔ پر دیکھا جو تو نے اے نگاہ دور بیں آ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے اتنا نہ انحراف کرو

مجھ سے اتنا نہ انحراف کرو جو خطا ہو گئی معاف کرو میں خطاؤں کو مان لیتا ہوں تم محبت کا اعتراف کرو یہ کدورت نہیں تمہیں زیبا دل کو میری طرف سے صاف کرو فیصلہ تم پہ اب تو چھوڑ دیا میرے حق میں کرو خلاف کرو میری ہر بات میں ہے مجبوری میری ہر بات کو معاف کرو صاف ہے میرے دل کا آئینہ مجھ ...

مزید پڑھیے

تو اگر دل میں ایک بار آئے

تو اگر دل میں ایک بار آئے عمر بھر کے لئے قرار آئے آشیانہ ہی گلستاں میں نہیں اب خزاں آئے یا بہار آئے وہ نہ آئیں تو اے دم آخر لب پہ نام ان کا بار بار آئے موت نے آسرا دیا بھی تو کب جب مصیبت کے دن گزار آئے یاس کہتی ہے کچھ تمنا کچھ کس کی باتوں پہ اعتبار آئے یہ تو کچھ تلخ تھی مرے ...

مزید پڑھیے

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو نہ کسی کے دل میں غبار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو یہ چلی ہے کیسی ہوا کہ اب نہیں کھلتے پھول ملاپ کے کبھی دور فصل بہار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو تھیں بہم نشاط کی محفلیں تھیں قدم میں لطف کی منزلیں بڑا زندگی پہ نکھار تھا ...

مزید پڑھیے

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا جہاں سے کیا غرض تجھ کو تو آپ اپنا جہاں ہو جا بیان پایمالی شکوۂ برق تپاں ہو جا گلستان جہاں کے پتے پتے کی زباں ہو جا شریک کارواں ہونے کی گو طاقت نہیں تجھ میں مگر اتنی تو ہمت کر کہ گرد کارواں ہو جا تزلزل سے بری ہو تیرا استقلال الفت میں یقین ...

مزید پڑھیے

درد کا حال آہ سے پوچھو

درد کا حال آہ سے پوچھو دل کی باتیں نگاہ سے پوچھو عظمت رحمت خداوندی آرزوئے گناہ سے پوچھو ان کی پیہم نوازشوں کا اثر میرے حال تباہ سے پوچھو دل خوددار کی زبوں حالی ہوش عز و جاہ سے پوچھو پستئ ہر بلندئ دنیا منتہائے نگاہ سے پوچھو عرش پر کیوں دماغ عرشؔ اڑا مفت کی واہ واہ سے پوچھو

مزید پڑھیے
صفحہ 4001 سے 4657