شاعری

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے یہ سلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سورج مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دشوار نہیں چاہیے دل میں تڑپ حرف دعا سے پہلے راکھ کے ڈھیر تمہیں اس کی گواہی دیں گے مجھ کو اپنوں نے جلایا چتا سے ...

مزید پڑھیے

اپنی نظریں در و دیوار پر اکثر رکھنا

اپنی نظریں در و دیوار پر اکثر رکھنا اجنبی گھر میں قدم سوچ سمجھ کر رکھنا کہیں پھٹ جائے کلیجہ نہ وفور غم سے اپنی پلکوں میں چھپا کر نہ سمندر رکھنا اتنا آسان نہیں ان کو بھلانا دل سے سوچ کر اپنے کلیجے پہ یہ پتھر رکھنا یاد آتا ہے وہ منظر ترے افسانے کا اپنے محبوب کو دشمن کے برابر ...

مزید پڑھیے

گر دل میں کر کے سیر دل داغدار دیکھ

گر دل میں کر کے سیر دل داغدار دیکھ اے جان خانہ باغ کی آ کر بہار دیکھ پچھتائے گا جو ہاتھ سے تو کھوئے گا ہمیں ہم تجھ سے صاف کہتے ہیں او بد شعار دیکھ میں کیا وہاں پہ گور تجھے دے ابھی جواب تربت پہ میری آ کے ذرا تو پکار دیکھ باہر ہوں اپنے جامے سے گل بلبلیں تو کیا گلشن میں امتحان کو ...

مزید پڑھیے

جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر

جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر جفائے پیر سبقت لے گئی بیداد طفلاں پر لگایا عطر جب ہم نے لب رنگین جاناں پر تو گویا تیل چھڑکا آتش لعل بدخشاں پر نہیں یہ معجزہ موقوف کچھ موسیٔ عمراں پر پیالے ہیں ید بیضا کف پر نور مستاں پر کبھی چلتی نہیں باد بہاری اپنے گلشن میں وہ بلبل ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

جو ساقیا تو نے پی کے ہم کو دیا ہے جام شراب آدھا

جو ساقیا تو نے پی کے ہم کو دیا ہے جام شراب آدھا تو اپنے دانتوں سے کاٹ کر دے ہمارے منہ میں کباب آدھا وہ پر گنہ ہوں کہ رہ گئے سب اسی میں دن کٹ گیا وہ سارا ہنوز محشر کے محکمے میں ہوا تھا میرا حساب آدھا کہاں گئی اب وہ لن ترانی نہ تاب جلوے کی لائے عاشق ہنوز کھولا تھا بہر دیدار اس نے بند ...

مزید پڑھیے

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو پردۂ کفر میں حاصل ہوا ایماں مجھ کو اب در اندازیٔ اغیار نہیں چل سکتی خوب پہچانتے ہیں یار کے درباں مجھ کو خال رخ خضر رہ کفر نہ ہوتا جو ترا دام میں لا ہی چکے تھے یہ مسلماں مجھ کو جس میں کچھ ہوتی ہے امید وصال معشوق اتنی کھلتی نہیں وو گردش دوراں مجھ ...

مزید پڑھیے

ملتا ہے قید غم میں بھی لطف فضاۓ باغ

ملتا ہے قید غم میں بھی لطف فضاۓ باغ چاک قفس سے آتی ہے فرفر ہوائے باغ روکے زباں نہ بلبل بستاں سراۓ باغ دہرائے پھر مرے سے کہو ماجرائے باغ سنتے ہیں اب کی آئی ہے کس دھوم سے بہار کیا جی پھڑک رہا ہے قفس میں برائے باغ کن چہچہوں میں اپنی بسر ہوتی تھی مدام اے ہم صفیر کیا ہو بیاں ...

مزید پڑھیے

یہ جی میں آتا ہے جل جل کے ہر زماں ناصح

یہ جی میں آتا ہے جل جل کے ہر زماں ناصح کہ آگ لے کے جلا دوں تری زباں ناصح نہ منع عشق مجازی سے کر مجھے ناداں یہی ہے بام حقیقت کی نردباں ناصح میں ترک عشق کمر یک بیک کروں کیوں کر سمجھ کے مجھ کو نصیحت کرو میاں ناصح ذلیل ہوگا تو اک روز پند بے جا سے تجھے خراب کرے گی تری زباں ناصح خدا کے ...

مزید پڑھیے

دل ان کو دیا تھا نہ دل آزار سمجھ کر

دل ان کو دیا تھا نہ دل آزار سمجھ کر ہم پھنس گئے دھوکے میں وفادار سمجھ کر خورشید کرے گا رخ ادھر بہر تماشا محشر کو ترے گرمئ بازار سمجھ کر اے کبک بہت کھا چکے ہیں ٹھوکریں ہر گام چلنا تو مرے یار کی رفتار سمجھ کر تاریکی مرقد سے نہ گھبراتا میں لیکن خوف آ گیا فرقت کی شب تار سمجھ کر وہ ...

مزید پڑھیے

پرتو رخ کا ترے دل میں گزر رہتا ہے

پرتو رخ کا ترے دل میں گزر رہتا ہے ساتھ آئینے کے آئینے کا گھر رہتا ہے آج کل جوش پہ یہ دیدۂ تر رہتا ہے مردم شہر کو طوفان کا ڈر رہتا ہے قتل عشاق انہیں مد نظر رہتا ہے نیمچہ آٹھ پہر زیب کمر رہتا ہے سوز الفت کا ہے پروانہ دل بزم اپنا یہ وہ پنبہ ہے نہاں جس میں شرر رہتا ہے بزم الفت میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3977 سے 4657