شاعری

عاشق گیسو و قد تیرے گنہ گار ہیں سب

عاشق گیسو و قد تیرے گنہ گار ہیں سب مستحق دار کے پھانسی کے سزاوار ہیں سب پاس اطبا کو ہے مایوس پرستار ہیں سب تیرے بیمار محبت کے بد آثار ہیں سب دل دہی کے بھی نہیں طرز سے واقف اصلا یہ حسینان جہاں نام کو دل دار ہیں سب اب یہ صورت ہے محبت میں تمہاری اے جان اپنے بیگانے مری شکل سے بیزار ...

مزید پڑھیے

بے زبانوں کو بھی گویائی سکھانا چاہئے

بے زبانوں کو بھی گویائی سکھانا چاہئے کلمہ انگشت شہادت کو پڑھانا چاہئے خال رخسار منور کا دکھانا چاہئے چاند میں اے مہروش دھبا لگانا چاہئے تیل میری آنکھ کے تل کا لگانا چاہئے گیسوؤں میں پنجۂ مژگاں کا شانہ چاہئے بہر زینت دامن شمشیر میں او جنگجو میری گردن کا تجھے پٹھا لگانا ...

مزید پڑھیے

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو

بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو پردۂ کفر میں حاصل ہوا ایماں مجھ کو جب تلک زلف رخ یار کا دیوانہ رہا پیر سمجھا کئے ہندو و مسلماں مجھ کو چاہئے پیرہن دامن تیغ او قاتل تیرے خنجر کا ہے درکار گریباں مجھ کو اب درندازی اغیار نہیں چل سکتی خوب پہچانتے ہیں یار کے درباں مجھ کو شرم ایذا ...

مزید پڑھیے

نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں

نہ وہ خوشبو ہے گلوں میں نہ خلش خاروں میں اک ترے آتے ہی خاک اڑ گئی گلزاروں میں چشم و ابرو و مژہ یار کی ہیں درپئے جاں ایک دل گھر گیا ہے اتنے دل آزاروں میں مرض ہجر سے بچتا نہیں بے داروئے وصل ہے یہ آزار بڑا عشق کے آزاروں میں تجھ کو زیبندہ ہے کیا سادگی اور رنگینی ایک طرحدار ہے تو لاکھ ...

مزید پڑھیے

پرتو پڑا جو عارض گلگون یار کا

پرتو پڑا جو عارض گلگون یار کا اٹھا تنور لالہ سے طوفاں بہار کا ہم چشم لالہ ہے جو دل داغدار کا نرگس کو ہم سا عارضہ ہے انتظار کا لکھتا ہے وصف شعلۂ رخسار یار کا جائے ورق ہو ہاتھ میں پتا چنار کا بیمار عشق ہوں لب و دندان یار کا نسخے میں میرے چاہئے شربت انار کا رشتے کی طرح سے در ...

مزید پڑھیے

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو جذبۂ تعمیر سے بھی واسطہ رکھا کرو زندگی کے راستے میں ہیں ہزاروں ٹھوکریں آبلہ پائی سلامت جو صلہ رکھا کرو مل ہی جاتے ہیں یہ اکثر زندگی کی موڑ پر اجنبی چہروں سے خود کو آشنا رکھا کرو دیکھنا شعلہ بیانی بھی ادا بن جائے گی تلخیٔ اظہار میں حسن ادا ...

مزید پڑھیے

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی حال دل ان کو سنانے کی ضرورت نہ رہی مسئلے ہو گئے بے رخ ہی سیاست کے شکار کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت نہ رہی قافلے درد کے خود دل سے گزر جاتے ہیں راستے ان کو دکھانے کی ضرورت نہ رہی وقت وہ ہے کہ ہوئے دونوں انا سے سرشار زندگی ساتھ نبھانے کی ضرورت نہ ...

مزید پڑھیے

یہ مانا حوادث کے دھارے بہت ہیں

یہ مانا حوادث کے دھارے بہت ہیں اگر حوصلہ ہے کنارے بہت ہیں رہ زندگی میں چلو تم سنبھل کر سمے کے طمانچے کرارے بہت ہیں تلاطم میں خود کھو گئے تم ہی ورنہ کنارے تو تم کو پکارے بہت ہیں نکل کر اندھیروں کے ملبوس سے دیکھو یہاں روشنی کے منارے بہت ہیں کہیں یہ جلا دیں نہ چلمن کو تیری مری ...

مزید پڑھیے

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ کمر کسنے لگا ہے فتنہ گر آہستہ آہستہ کتر ڈالو اسے جتنا بھی تم سونے کی قینچی سے پرندے کا نکل آتا ہے پر آہستہ آہستہ ڈبو کر منچلی کشتی کو موجوں نے کہا ہنس کر کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ طلسمی بانسری نادان بچوں کو نہ دینا تم اجڑ جائے گا ...

مزید پڑھیے

نظام جہاں بھی عجب ہے نرالا

نظام جہاں بھی عجب ہے نرالا اندھیروں سے ڈرنے لگا ہے اجالا وہ فٹ پاتھ پر اپنا فن بیچتا تھا ستم گر جہاں نے اسے روند ڈالا انا سے کہاں کس کو مکتی ملی ہے ہے مضبوط کتنا یہ مکڑی کا جالا یہی وہ غریبی کی گلیاں ہیں یارو جہاں روز بکتا ہے عزت کا پیالہ یہ فرقہ پرستی کا منحوس بندر اثرؔ توڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3976 سے 4657