سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں
سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں مشورے ہوتے ہیں یوسف کے خریداروں میں چاہتے ہیں کہ کوئی غیرت یوسف پھنس جائے کس قدر کھوٹے کھرے بنتے ہیں بازاروں میں دو قدم چل کے جو تو چال دکھا دے اپنی ٹھوکریں کھاتے پھریں کبک بھی کہساروں میں خون عشاق سے لازم ہے یہ پرہیز کریں کہ شمار آپ کی ...