شاعری

سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں

سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں مشورے ہوتے ہیں یوسف کے خریداروں میں چاہتے ہیں کہ کوئی غیرت یوسف پھنس جائے کس قدر کھوٹے کھرے بنتے ہیں بازاروں میں دو قدم چل کے جو تو چال دکھا دے اپنی ٹھوکریں کھاتے پھریں کبک بھی کہساروں میں خون عشاق سے لازم ہے یہ پرہیز کریں کہ شمار آپ کی ...

مزید پڑھیے

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے نکل آئی تڑپ کر برق آغوش تبسم سے کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے صدائے لن ترانی آتی ہے ان کے تکلم سے گرا دیں طور دل پر صاعقہ برق تبسم سے فلک کو وجد ہوگا اے پری تیرے تبسم سے اتر آئے گی زہرہ ...

مزید پڑھیے

بولے گا کون عاشق نادار کی طرف

بولے گا کون عاشق نادار کی طرف سارا زمانہ آج تو ہے یار کی طرف جن آنکھ سے لیا تھا دل اب وہ رہی نہ آنکھ حیرت سے دیکھتا ہوں رخ یار کی طرف درباں کبھی جو روکے وہ نازک مزاج ہیں منہ کر کے سوئیں ہم نہ در یار کی طرف ہارے ہوئے ہو بوسوں کا کر لو ابھی حساب فاضل ہے کچھ ہمارا ہی سرکار کی ...

مزید پڑھیے

بشر کے فیض صحبت سے لیاقت آ ہی جاتی ہے

بشر کے فیض صحبت سے لیاقت آ ہی جاتی ہے پری زادوں کو آخر آدمیت آ ہی جاتی ہے جوانی سے دیا وہ ہوتے ہیں غافل ضعیفی میں نسیم صبح چلتی ہے تو غفلت آ ہی جاتی ہے کلید قفل مشکل ہوتی ہے داد و دہش آخر سخی کے ایک دن آڑے سخاوت آ ہی جاتی ہے رقیب اس شوخ سے جب گرمیاں کرتے ہیں محفل میں نہیں قابو میں ...

مزید پڑھیے

روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم

روز اول سے اسیر اے دل ناشاد ہیں ہم پرورش یافتۂ خانۂ صیاد ہیں ہم کس طرح سے نہ پسے دل رخ گندم گوں پر عاقبت حضرت آدم ہی کی اولاد ہیں ہم جو لڑکپن سے ہے گہوارۂ بیتابی کی ناز پروردۂ عشق ستم ایجاد ہیں ہم کیوں نہ ہو رنج‌ اسیری قفس سے راحت خانہ‌ زاد چمن گلشن بیداد ہیں ہم خسرو شہر ادا ...

مزید پڑھیے

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی یعنی مہ صیام کی پہلی کو عید کی مرنے کے بعد بھی یہ تمنا تھی دید کی آنکھیں ہوئیں نہ بند تمہارے شہید کی پھر جنس دل نہ اپنی کسی نے خرید کی سچ ہے کہ قدر کچھ نہیں مال مزید کی یہ وقت چشم پوشیٔ اہل وفا نہیں جان آنکھوں میں ہے یار ترے محو دید کی مسی دہان ...

مزید پڑھیے

عشق میں تیرے جان زار حیف ہے مفت میں چلی

عشق میں تیرے جان زار حیف ہے مفت میں چلی تو نے پر او ستم شعار اب بھی مری خبر نہ لی کوئی بلا پھر آئے گی مفت میں جان جائے گی پیچ میں ہم کو لائے گی زلف سیاہ بڑھ چلی آتے ہی فصل دل پذیر بولے قفس میں ہم صفیر جس میں ہوئے تھے ہم اسیر لو وہی پھر ہوا چلی اے گل گلشن وفا بے ترے نیند آئے کیا بستر ...

مزید پڑھیے

تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا

تھا قصد قتل غیر مگر میں طلب ہوا جلاد مہربان ہوا کیا سبب ہوا افسوس کچھ نہ میری رہائی کا ڈھب ہوا چھوٹا ادھر قفس سے ادھر میں طلب ہوا تشریف لائے آپ جو میں جاں بہ لب ہوا اس وقت کے بھی آنے کا مجھ کو عجب ہوا نکلے گی اب نہ حسرت قتل اے نگاہ یاس قاتل کو رحم آ گیا مجھ پر غضب ہوا ہو جائے گا ...

مزید پڑھیے

لطف بہار مشفق من دیکھتے چلو

لطف بہار مشفق من دیکھتے چلو بلبل کا ڈھنگ رنگ چمن دیکھتے چلو بانکوں کو بانکپن کو ملاؤ نہ خاک میں تن تن کے یوں نہ اپنا بدن دیکھتے چلو جاتے اگر ہو کوچۂ قاتل کی سیر کو کپڑا بھی تھوڑا بہر کفن دیکھتے چلو چشم بتان دہر کی آفت ہیں شوخیاں صحرائے حسن کے بھی ہرن دیکھتے چلو کیا کر رہی ہے ...

مزید پڑھیے

ڈورا نہیں ہے سرمے کا چشم سیاہ میں

ڈورا نہیں ہے سرمے کا چشم سیاہ میں بانا پڑا ہے یار کے پائے نگاہ میں ہر دم جو میں کھٹکتا ہوں ان کی نگاہ میں مانند خار اٹھتے ہیں اغیار راہ میں گھر اس کے دل میں کر کے گئی مفت اپنی جان کشتی ہماری ڈوب گئی آ کے تھاہ میں ہر دم وہ سلک گوہر ویران ہوں گھورتا موتی پرو رہا ہوں میں تار نگاہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3978 سے 4657